اندرا کی جیتی جنگ مودی ہار گیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
قیام پاکستان کے بعد سے ہی مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے جدا کرنے کے لیے بھارتی رہنماؤں کی کوششیں شروع ہو چکی تھیں۔ نہرو ایک زیرک سیاستدان تھے، وہ لاکھ کوشش کے باوجود بھی مشرقی پاکستان کو نہ ہتھیا سکے۔ بھارت کی ترقی اور اسے ایک اہم ملک بنانے میں نہرو کا اہم کردار تھا۔
نہرو پاکستان کے قیام کے بھی خلاف تھے اور پاکستان توڑنے کی خواہش بھی رکھتے تھے مگر وہ اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کی حسرت کے ساتھ دنیا سے چل بسے۔ ان کے بعد ان کی بیٹی اندرا گاندھی نے بھارتی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سیاسی چپقلش اور طویل فوجی اقتدار نے اندرا کو اس کے مقصد میں کامیاب ہونے کا موقع فراہم کر دیا۔
1971 میں پاکستان دولخت ہوگیا۔ یہ سانحہ اندرا گاندھی کی کھلی جارحیت اور دو قومی نظریے کو شکست دینے کی کوشش تھی۔ حسینہ واجد نے الزام لگایا تھا کہ پاک فوج نے لاکھوں بنگالیوں کا قتل عام کیا تھا اور خواتین کی بے عزتی کی تھی۔
اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ عام بنگالیوں کا قتل عام اور خواتین کی بے حرمتی بھارتی اشارے پر مکتی باہنی نے انجام دی تھی جس کا مقصد عام بنگالیوں کو پاکستان سے بدظن کرنا اور بنگلہ دیش کے قیام کو جائز قرار دینا تھا۔ مکتی باہنی دراصل بھارتی تربیت یافتہ فوجیوں پر مشتمل تھی، اسے پاکستانی فوج کی وردی میں بھیجا گیا تھا تاکہ بنگالی انھیں پاکستانی سمجھیں اور پاکستان سے نفرت کرنے لگیں۔
اس سانحے میں بڑی عالمی طاقتوں کی چشم پوشی بھی قابل ذکر ہے۔ امریکا نے پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اس نے اپنے بحری بیڑے کے پہنچنے کا دلاسا ضرور دیا تھا مگر وہ سب مکر و فریب کا گورکھ دھندا تھا۔
بنگلہ دیش تو بن گیا تھا جس کی معیشت اس قابل نہیں تھی کہ وہ ایک ملک کے طور پر قائم رہ سکے چنانچہ بھارت نے تو مالی مدد ضرور فراہم کی، اس کے ساتھ یورپی ممالک سے بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کرائی گئی۔ اسے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے گارمنٹس ایکسپورٹ ملک بنا دیا گیا۔
مجیب الرحمن نے تقریباً چار سال حکومت کی مگر اس دوران اس پر کرپشن کے بے حساب الزامات لگے، افسوس کہ اس نے بنگلہ دیش کا بابائے قوم ہوتے ہوئے ایسے کام کیے بالآخر اسے بنگالی فوجیوں نے قتل کردیا اور اس کے خاندان کے کئی افراد بھی کام آئے۔ جو باقی بچے ان میں حسینہ بھی شامل تھی جو بعد میں بنگلہ دیش کی بھارت کی مدد سے وزیر اعظم بن گئی۔
اس نے اپنے والد کی طرح بھارت سے گہرے تعلقات قائم کر لیے تھے۔ بھارت نے اسے نہ صرف ’’را‘‘ کی مدد سے تین مرتبہ الیکشن میں کامیاب کرایا بلکہ برے وقت میں اپنے ہاں پناہ دینے کی پیشکش کی۔ حسینہ واجد پندرہ سال بغیرکسی مزاحمت کے حکومت کرتی رہی۔ گوکہ ہر پانچ سال بعد الیکشن کرائے گئے مگر ہر دفعہ وہی الیکشن میں کامیاب قرار دی جاتی رہی۔
اس لیے کہ یہی بھارتی حکومت کا فرمان تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے دور میں بنگلہ دیش بھارت کا ایک صوبہ بن کر رہ گیا تھا۔ بنگلہ دیشی عوام بھارت کی اپنے ملک میں اس پیمانے پر مداخلت کو برداشت نہیں کر پائے۔ جماعت اسلامی کے کئی پرانے عہدیداران کو حسینہ واجد نے 1971 میں پاکستان کی حمایت کرنے کے الزام میں پھانسی پر لٹکایا مگر ان پھانسیوں کا اصل حکم نئی دہلی سے آیا تھا۔
مودی نے اقتدار سنبھال کر مسلمانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ایک بڑے دشمن کے طور پر پیش کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ حسینہ واجد بھارت کی غلامی میں پاکستان کی سب سے بڑی دشمن بن گئی تھی، تاہم وہاں کے عوام حسینہ واجد کی پاکستان دشمنی میں اس کے ساتھ نہیں تھے۔
حسینہ ایک آمر کے طور پر پورے بنگلہ دیش کی سفید و سیاہ کی مالک بن گئی تھی۔ اسے عوام سے زیادہ بھارت کی فکر تھی اس نے بنگلہ دیشی عوام کی مرضی کے خلاف بھارت کو بہت سی سہولتیں فراہم کیں جن میں بھارتی فوج کو بنگلہ دیش کی سرزمین سے گزر کر اس کی مشرقی ریاستوں تک رسائی کی سہولت بھی شامل تھی۔ بنگلہ دیش بھارت کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا حمایتی تھا وہ بھارت کے حکم پر ہی کسی ملک سے تعلقات استوار کر سکتا تھا۔
پاکستان سے نفرت کرنا بنیادی نکتہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش مسئلہ کشمیر پر بھی بھارتی طرف دار بن گیا تھا۔ بنگلہ دیشی عوام حسینہ واجد کی آمرانہ حکومت سے بالآخر تنگ آ گئے۔
وہ بھارت سے پہلے سے ہی بدظن تھے اور پھر پورے بنگلہ دیش میں طلبا نے حسینہ کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا جس کا جواز تو نوکریوں میں حکومتی زیادتی قرار پایا مگر اصل میں اس کی ڈکٹیٹر شپ اور بدعنوانی نے طلبا کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اس کے خلاف کھڑا کر دیا تھا، بالآخر اسے بھاگ کر مودی کے قدموں میں پناہ لینی پڑی۔
حسینہ واجد کو ایک مطلق العنان حکمران بنانے میں مودی کا پورا پورا ہاتھ تھا۔ بالآخر نتیجہ یہ نکلا کہ اندرا گاندھی نے دو قومی نظریے کی دشمنی میں پاکستان کو توڑ کر بنگلہ دیش بنایا اور مودی نے مسلم دشمنی میں اسے کھو دیا اور اب بنگلہ دیشی عوام کی بھارت سے نفرت سے لگتا ہے کہ وہ کبھی اسے اپنے ملک میں مداخلت کا موقع نہیں دیں گے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیشی عوام میں پاکستان پاکستان کو پاکستان سے حسینہ واجد بنگلہ دیش بھارت کی کے ساتھ گیا تھا
پڑھیں:
بنگلہ دیش کی عدالت نے اظہر الاسلام کی سزائے موت کے خلاف اپیل سماعت کے لیے مقررکردی
ڈھاکہ(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔22 اپریل ۔2025 )بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے 1971 میں ”انسانیت کے خلاف جرائم“ سے متعلق مقدمے میں جماعت اسلامی کے سابق نائب سیکرٹری جنرل اظہر الاسلام کو دی جانے والی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت کے لیے 6 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے اپیل پر سماعت اپیلٹ ڈویژن کا فل بنچ کرے گا. اظہر الاسلام کو دی جانے والے سزائے موت کے خلاف اپیل پر 6 مئی کو سماعت کرنے کا فیصلہ چیف جسٹس ڈاکٹر سید رفعت احمد کی سربراہی میں چار ±کنی اپیلٹ بنچ نے منگل کو دیا تھااس موقع پر اظہر الاسلام کی نمائندگی بیرسٹر احسان عبداللہ صدیقی نے کی.(جاری ہے)
بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے اظہر الاسلام کو30 دسمبر 2014 کو انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی تھی ان پر الزام تھا کہ جنگ کے دوران انہوں نے پاکستان کی طرف جھکاﺅرکھنے والے ملیشیا گروپ کے ایک رکن کے طور پر وسیع پیمانے پر قتلِ عام میں حصہ لیا تھا. یاد رہے کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے تھے بنگلہ دیش میں ماضی میں ان عدالتی کارروائیوں کے ناقدین کا بھی یہی کہنا تھا کہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت جنگی جرائم کے ٹرائبیونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی تھی اس فیصلے کے خلاف ابتدائی اپیل 2019 میں کی گئی تھی تاہم اس وقت اپیلٹ ڈویژن نے سزائے موت کو برقرار رکھا تھا بعد ازاں 19 جولائی 2020 کو اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی تھی جسے سماعت کے لیے مقررنہیں کیا گیا تھا.