Daily Ausaf:
2025-04-23@23:10:28 GMT

190 ملین پائونڈ کا معمہ

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT

جوں جوں القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے کی گھڑی قریب آرہی ہے یہ تاثر گہرا ہو رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم اس مقدمے میں مضبوط دفاع پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وکلا دوران سماعت قانونی نکات پر بات کرنے کی بجائے کیس کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ احتساب عدالت اسلام آباد میں زیر سماعت مقدمے کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ 190 ملین پائونڈ ریفرنس میں قومی احتساب آرڈیننس کی دفعات کے تحت کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے مرتکب ہیں۔اس کرپشن کیس میں نیب راولپنڈی نے انکوائری کا آغاز 2022 ء میں کیا اور بعد ازاں نا قابل تردید شواہد اور ثبوت حاصل کرنے کے بعد انکوائری کو باقاعدہ تحقیقات میں تبدیل کیا گیا۔
190 ملین پائونڈ کرپشن کیس میں نیب راولپنڈی نے یکم دسمبر 2023 ء کو 8 ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جن میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشری بی بی سمیت فرح گوگی ، شہزاد اکبر ، زلفی بخاری ، بیرسٹر ضیا اور معروف پراپرٹی ٹائیکون بھی شامل تھے احتساب عدالت اسلام آباد نے کرپشن ریفرنس پر کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے چھ مفرور ملزمان کو دسمبر 2023 ء میں اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کا کیس الگ کر دیا جبکہ بانی پی ٹی آئی اور انکی اہلیہ پر فروری 2024 میں فرد جرم عائد کر دی گئی۔ اس کے بعد مقدمے کا باقاعدہ آغاز ہوا ۔پراسیکیوشن کی جانب سے 35 گواہان کی شہادتیں ریکارڈ کروائی گئیں۔ یہ شہادتیں مفصل بیانات اور نا قابل تردید ثبوتوں پر مشتمل ہیں۔ شنید یہ ہے کہ ملزمان کے وکلا موثر دفاع کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
احتساب عدالت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کو گواہان پر جراح کے مکمل مواقع فراہم کیے گئے۔ معقول وقت فراہم کئے جانے کے باوجود وکلا نے بامقصد جرح پر توجہ مرکوز نہیں کی۔ قانونی ماہرین کے مطابق بانی پی ٹی آئی پر قائم کئے گئے مقدمات میں سے القادر ٹرسٹ کیس شواہد کے لحاظ سے سب سے زیادہ مضبوط ہے۔ اس مقدمے میں پیش کیے گئے تمام ثبوت کرپشن کی نشاندہی کرتے ہیں۔احتساب عدالت میں پیش کئے گئے شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ نے ذاتی فوائد کی خاطر قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ۔
190 ملین پائونڈ کی خطیر رقم جو کہ قومی خزانے میں جمع ہونی چاہیے تھی بانی پی ٹی آئی اور ات کی اہلیہ کی ایما پر معروف ہائوسنگ اسکیم کے ذمے واجب الادا 460ارب روپے کے جرمانے کی ادائیگی میں ایڈجسٹ کر دی گئی۔ اس کے عوض بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی نے مارچ 2021ء میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے نام پر سوہاوہ میں 458 کنال اراضی حاصل کی ۔ جب زمین منتقل کی گئی تو ٹرسٹ میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے علاوہ زلفی بخاری اور بابر اعوان بھی شامل تھے ۔تاہم بعد ازاں یہ ٹرسٹ سے علیحدہ ہو گئے۔
برطانیہ سے 190 ملین پائونڈ کی پاکستان واپسی میں بانی پی ٹی آئی خصوصی دلچسپی لیتے رہے اور اس سارے معاملے کو قانونی رنگ دینے کے لئے باقی ملزمان کی ملی بھگت سے ایک مشکوک دستاویز بند لفافے کی صورت میں کابینہ میٹنگ میں پیش کیا گیا۔ تمام وفاقی کابینہ کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے صرف لفافہ لہرا کر نادیدہ ڈیل کی منظوری لی گئی۔ ہر لحاظ سے یہ معاملہ غیر شفاف اور مشکوک ہے۔ نئے پاکستان کی کوکھ سے جنم لینی والی کرپشن نے پرانے پاکستان کی داستانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنی قیادت کو دودھ کا دھلا ثابت کرنے والے انصافی حامیوں کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں۔ اول، رئیل سٹیٹ ٹائیکون کے مالی معاملات اور غیر قانونی اقدامات سے پی ٹی آئی کی حکومت کو کیا دلچسپی تھی؟ دوم، ریاست کے خزانے میں جانے والی رقم کو جرمانے کی مد میں شمار کرنا جرم میں معاونت کے مترادف ہے۔ سوم، یکا یک رئیل سٹیٹ ٹائیکون کی جانب سے اراضی کا انتقال یہ ثابت کرنے کو کافی ہے کہ در پردہ مالی منفعت کے حصول کے لئے حکومت کے ساتھ مشکوک ڈیل طے پا چکی تھی۔چہارم، انصاف اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کا ڈھول پیٹنے والی جماعت کی قیادت پر عائد بدعنوانی کے الزامات فوری تحقیقات اور تادیبی کاروائی کے متقاضی ہیں۔

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی اور احتساب عدالت ملین پائونڈ کی اہلیہ

پڑھیں:

تحقیقاتی ادارے کارڈیک ہسپتال گلگت میں ہونی والی کرپشن پر خاموش کیوں ہیں؟ نعیم الدین

نجمن امامیہ گلگت بلتستان کے مرکزی نائب صدر نعیم الدین سلیمان نے ایک بیان میں کہا اہم ریاستی ادارے، اینٹی کرپشن اور FIA جیسے اداروں کو کارڈیک ہسپتال گلگت میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات پر مکمل خاموشی سوالیہ نشان ہے اور اسی ادارے میں میرٹ کے خلاف یکطرفہ طور پر ملازمین کی تقرری اقربا پروری میں سابقہ سیکریٹری صحت اور سابق وزیر صحت ملوث ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ انجمن امامیہ گلگت بلتستان کے مرکزی نائب صدر نعیم الدین سلیمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انسانی سماج میں حکومت اور اپوزیشن کا تصور ایک حقیقت ہے لیکن اس کے باوجود حکومت کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، اس لئے کہ وہ اقتدار میں ہوتی ہے، ایسے میں اپوزیشن اور عوام کو تنقید کا موقع نہ دینا حکومت کی کامیاب حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔ گلگت بلتستان میں منرلز کے معاملہ پر حکومت سے گلہ شکوہ ہونا فطری امر ہے اور حکومت کو ایسے مواقع میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ لیکن پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے واضح موقف سامنے نہ آنے کے نتیجہ میں عوام کی بے چینی بڑھ گئی، جس کا ازالہ کرنا بھی حکومت کے فرائض میں شامل تھا، جس کی کمی اب بھی محسوس کی جا رہی ہے اور آغا سید راحت حسین الحسینی جو کہ پورے گلگت بلتستان کے عوامی نمائندہ اور قائد ہیں نے جمعہ خطبے میں بھرپور عوامی ترجمانی کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی جماعتی اور انفرادی حیثیت کے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی شخصیات اس کا بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ حکومتی مشنری بالخصوص میڈیا ایڈوائزر کی جانب سے بے چینی کے ازالہ کے بجائے مزید خلفشار پیدا کرنے کے بیان سے بے چینی جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی جس کے بعد ایک صوبائی معاون خصوصی کی جانب سے مذکورہ ایڈوائزر کے خلفشار کا بیان واپس لینے کے اعلان کو سمجھداری سے تعبیر کیا جاتا ہے اور مرکزی انجمن امامیہ کے جانب سے عوام الناس اور سوشل میڈیا صارفین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اس بیان بازی کا سلسلہ کو روک دیا جائے۔ اہم ریاستی ادارے، اینٹی کرپشن اور FIA جیسے اداروں کو کارڈیک ہسپتال گلگت میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات پر مکمل خاموشی سوالیہ نشان ہے اور اسی ادارے میں میرٹ کے خلاف یکطرفہ طور پر ملازمین کی تقرری اقربا پروری میں سابقہ سیکریٹری صحت اور سابق وزیر صحت ملوث ہیں۔

اسی طرح کئی انکوائریاں سرد خانے کی نذر کی گئی ہیں۔ یہ وہ سوالیہ نشانات ہیں جن کا اظہار تو سیاسی مصلحت کاروں کی طرف سے خاموشی اور علماء کرام کی طرف سے نشاندہی پر آگ بگولہ ہونا ہے۔ تاہم اس کا جواب یہ مشیران اور وزاء سمیت پوری ریاست کو دینا پڑے گا۔ اگر آغا صاحب کی طرف لگایا گیا الزام درست نہیں تو اوپر بیان کئے گئے کریشن کی انکوائریاں کیوں پنڈنگ میں رکھی گئی ہیں۔ اس میں براہ راست سیکریٹری صحت اور سابقہ وزیر صحت کے ملوث ہونے کے شبہات کا جنم لینا اور اس پر حکومتی اور انتظامی خاموشی ان کے ملوث ہونے کی واضح دلیل ہے۔

متعلقہ مضامین

  • تحقیقاتی ادارے کارڈیک ہسپتال گلگت میں ہونی والی کرپشن پر خاموش کیوں ہیں؟ نعیم الدین
  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے  پالیسی طلب کر لی
  • پی ٹی آئی کو کرش کرنے کے لیے ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا گیا ، بانی پی ٹی آئی
  • کراچی: سوٹ کیس سے لاش ملنے کا معمہ حل، قاتل قریبی خاتون دوست نکلی
  • 190 ملین پاؤنڈز کیس: اپیلیں مقرر کرنے سے متعلق ڈپٹی رجسٹرار سے پالیسی طلب
  • 190 ملین پاؤنڈز کیس؛ اپیلیں مقرر کرنے سے متعلق ڈپٹی رجسٹرار سے پالیسی طلب
  • ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر بڑی پیش رفت
  • آغا راحت کی سرکاری ملازمین پر تنقید مناسب نہیں، انجینیئر انور
  • وسائل کے تحفظ کیلئے آغا راحت کا بیان حقیقت پر مبنی ہے، عارف قنبری
  • سپیکر خیبر پی کے کرپشن الزامات سے بری کمیٹی میں اختلافات