سپریم کورٹ بار کا بھارتی سفارتکاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دینے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھارتی سفارتکاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دینے کا مطالبہ کردیا۔
ایک بیان میں سپریم کورٹ بار نے کہا ہے کہ بھارتی سفارتکاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا جائے۔
صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میاں رؤف عطا نے کہا کہ پہلگام واقعے کے باعث سفارتی کشیدگی سے آگاہ ہیں، قومی وقار کے تحفظ کےلیے سخت اور مؤثر جواب ناگزیر ہے۔
انکا کہنا تھا کہ پہلگام واقعہ پلوامہ کی طرح کا فالس فلیگ آپریشن ہے، پاکستان پر بھارتی الزمات مضحکہ خیز، جھوٹ کا پلندہ اور بےبنیاد ہیں۔
صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ پہلگام واقعہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت چھپانے کی ناکام کوشش ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔
سپریم کورٹ بار کے صدر کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کی سرپرستی میں مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق پامال کیے جارہے ہیں۔ کلبھوشن جادیو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی علاقائی سلامتی کی ضامن پاکستان کی افواج پر فخر ہے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ بار
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر، :ہائی کورٹ کی طرف سے 2 کشمیریوں کی غیر قانونی نظربندی کالعدم قرار
ذرائع کے مطابق جسٹس راہول بھارتی پر مشتمل ہائی کورٹ کے بنچ نے بارہمولہ کے رہائشی محمد آفرین زرگر کی کالے قانون پی ایس اے کے تحت نظر بندی کو کالعدم قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ہائی کورٹ نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت دو کشمیریوں کی غیر قانونی نظربندی کالعدم قرار دیتے ہوئے قابض انتظامیہ کو ان کی فوری رہائی کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق جسٹس راہول بھارتی پر مشتمل ہائی کورٹ کے بنچ نے بارہمولہ کے رہائشی محمد آفرین زرگر کی کالے قانون پی ایس اے کے تحت نظر بندی کو کالعدم قرار دیا اور نظربندی کیلئے ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکامی پر قابض حکام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ آفرین زرگر پر گزشتہ سال 10ستمبر کو کالے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ادھرجسٹس محمد یوسف وانی پر مشتمل کشمیر ہائی کورٹ کے ایک اور بنچ نے ارشاد احمد ڈار کی کالے قانون پی ایس اے کے تحت غیر قانونی نظربندی کو کالعدم قرار دیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بارہمولہ نے 21 جولائی 2023ء کو ارشاد کی نظربندی کے احکامات جاری کئے تھے۔واضح رہے کہ کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے تحت ان کی غیر قانونی نظربندیوں کا سلسلہ مقبوضہ کشمیر میں تیزی سے جاری ہے اور عدالتوں میں قابض انتظامیہ کشمیریوں پر لگائے گئے جھوٹے الزامات کے حق میں ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہتی ہے۔