وقف بل کے خلاف قرارداد نہ لانے کیلئے نیشنل کانفرنس کو وضاحت کرنی چاہیئے، التجا مفتی
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
پی ڈی پی کی لیڈر کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کیساتھ پہلے مفاہمت تھی کہ ہم وقف پر بات نہیں کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی لیڈر التجا مفتی نے وقف بل پر نیںشنل کانفرنس (این سی) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ این سی نیلامی میں اوقاف کی جائیدادیں اپنے لوگوں کو دیا کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبدللہ کو بتانا چاہتے ہیں کہ جب تین دن اسمبلی چل رہی تھی ان کے بیٹے جو وزیراعلٰی ہیں ان دنوں کہاں تھے۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی اور این سی کے درمیان یہلے ہی مفاہمت تھی کہ ہم وقف بل پر بات نہیں کریں گے۔ التجا مفتی جو کہ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی کی بیٹی بھی ہے نے ان باتوں کا اظہار منگل کو میڈیا نمائندوں کے سوالوں کے جواب دینے کے دوران کیا۔ وقف بل ڈاکٹر فاروق عبدللہ کے ایک بیان پر انہوں نے کہا کہ جب پہلے وقف کی نیلامی ہوتی تھی تو نیںشنل کانفرنس کے وقف جائیداد اپنے لوگوں کو دیتی تھی۔
ان کا کہنا تھا ڈاکٹر فاروق عبدللہ کو بتانا چاہتے کہ آج ان کا بیٹا وزیراعلٰی ہے، جب اسمبلی تین دنوں تک چلی، وقف بل کے خلاف قراردادیں لانے نہیں دی گئیں۔ اس وقت وہ کیا کررہے تھے وہ ٹولیپ گارڈن میں کرن رجیجو کے ساتھ ٹہل رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کا وزیراعلٰی ہے ان کے پاس 50 ارکان اسمبلی ہیں جبکہ کرناٹک، مغربی بنگال اور تامل ناڈو نے اس بل کے خلاف قراردادیں لانے کا فیصلہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ این سی اور بی جے پی کے ساتھ پہلے مفاہمت تھی کہ ہم وقف پر بات نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکرفاروق کو واضح کرنا چاہیئے کہ ان کہ پارٹی نے اسمبلی میں وقف بل کے خلاف قرار داد کیوں نہیں لائی۔
التجا مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں واحد مسلم اکثریتی ریاست ہے نہ صرف جموں و کشمیر کے لوگوں کی بلکہ ملک بھر کے مسلمانوں کی نظریں ہماری طرف ہیں لیکن حکومت نے ان کے حوصلے پست کئے ہیں۔ پی ڈی پی کی لیڈر نے کہا کہ جموں و کشمیر ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست ہے نہ صرف جموں و کشمیر کے لوگوں کی بلکہ ملک بھر کے مسلمانوں کی نظریں ہماری طرف ہیں لیکن حکومت نے ان کے حوصلے پست کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں زیر سماعت معاملہ کہنا ایک بہانہ ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ التجا مفتی بل کے خلاف پی ڈی پی
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں امن و ترقی کے بھارتی حکومت کے دعوے جھوٹے ہیں، کانگریس رہنما
ذرائع کے مطابق نصیر حسین نے جموں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ریاست کا درجہ بحال ہونا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کانگریس کے رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن سید نصیر حسین نے ریاستی درجے کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت کو اس حوالے سے ایک واضح ٹائم لائن طے کرنا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق نصیر حسین نے جموں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ریاست کا درجہ بحال ہونا چاہیے اور اب جب کہ مقبوضہ علاقے میں ایک حکومت قائم ہے تو اس میں اب مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ریاستی درجے کی بحالی کیلئے پہلے بھی احتجاج کیا ہے اور ہم اس کے لیے لڑتے رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ علاقے میں امن و ترقی کے بھارتی حکومت کے دعوے جھوٹے ہیں کیونکہ یہاں اب بھی لوگ مارے جا رہے ہیں۔