Express News:
2025-04-22@07:19:11 GMT

سلیمانی ٹوپی پہنے معاشی ترقی

اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT

حکومت کی طرف سے صبح وشام کہا جاتا ہے کہ ملک معاشی ترقی کی راہ پرچل پڑا ہے اورٹیک آف کرنے والا ہے یا کرچکا ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے اس ملک اورقوم پرمسلط ہونے والا معاشی بحران اب ختم ہوچکا ہے اورتمام معاشی و اقتصادی اشارے مثبت سمت کی گواہی دے رہے ہیں۔

عالمی مالیاتی اداروں نے بھی اس بات پراطمینان کا اظہار کیا ہے کہ اب پاکستان ڈیفالٹ ہوجانے کے خطروں سے باہرنکل آیا ہے۔ہمیں حکومت کے اِن دعوؤں پر شک کرناکچھ اچھا نہیںلگ رہا لیکن ہم کیا کریں کہ ہمیں سوائے چند ایک اشاروں کے کہیں بھی یہ انقلابی معاشی ترقی دکھائی نہیں دے رہی۔ عوام الناس کو آج بھی اُنکی ضرورت کی تمام اشیاء نہ صرف پرانے داموں مل رہی ہے بلکہ اس میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہی ہوتادکھائی دے رہا ہے۔

چینی ہی کو لے لیجیے جو ایکسپورٹ کی اجازت سے پہلے عوام کو 120 یا 130روپے فی کلو مل رہی تھی وہ آج 170 یا180 میں مل رہی ہے جب کہ وزیراعظم نے اجازت اسی شرط کے ساتھ دی تھی کہ ملک کے اندر اس کی قیمت نہیں بڑھنی چاہیے اور اگر بڑھی تو برآمد کرنے کی یہ اجازت واپس لے لی جائے گی، مگر ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ اضافی چینی ایکسپورٹ ہوچکی اورعوام کواس کی سزا دے دی گئی۔ اب چینی کی قیمت 170 روپے سرکاری طور پرفکسڈ اورطے کردی گئی ۔

کوئی پوچھنے والا نہیںکہ ایسا کیوں ہوا؟ہمارے میڈیا کے پروگراموں میں ہر روز نظر آنے والے نڈر اوربے باک صحافیوں میں سے بھی کسی نے اب تک حکمرانوں سے یہ سوال نہیں کیاکہ آپ تو ایکسپورٹ کے حوالے سے جو کچھ کہاکرتے تھے اوراب کیوں خاموش ہیں۔ یہ سب کچھ عوام کو دھوکا دینے کی غرض سے تو نہیںکیاگیا۔ شوگر مافیا کیااتنی مضبوط ہے کہ حکومت بھی اس کے آگے بے بس ولاچار ہے اوروہ اپنا کام کرگئے یاپھر وہ اس کااعتراف کرلے کہ شوگر مافیا کی اکثریت ہماری پارلیمنٹ میں بیٹھی ہے اوروہ ہمیشہ ہر دور میں اپنا کام کرجاتی ہے۔

اسے اپنے بزنس میں کبھی بھی نقصان نہیں ہوا۔ بلکہ یہ کہاجائے کہ اس وقت سب سے کم انویسٹمنٹ میںسب سے زیادہ منافع دینے والا اگر کوئی بزنس ہے تو یہ شوگر مالکان کا ہی ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنے ملک میں ہرطرف اسی کے کارخانے دکھائی دیتے ہیں اوریہ کم سے کم خرچے پر بہت جلد مکمل بھی ہوجاتے اورفعال بھی۔کاشتکاروں کے خون پیسنے کی کمائی اورفصل بہت ہی سستے داموں خریدکر اپنے کارخانوں میں منتقل کرکے جب چاہتے ہیںمنہ مانگے داموں اسے فروخت بھی کردیتے ہیں۔

جب کبھی بھی نقصان کا احتمال ہونے لگتا ہے فوراً مصنوعی قلت پیدا کرکے عوام کو پریشان اورحکومت کو گھٹنے ٹیک دینے پرمجبور کردیتے ہیں،یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے اورکوئی بھی ان کی گرفت کرنے والا نہیں۔

معاشی ترقی کے اوربھی کئی ایسے اشارے ہیں جن سے عوام مطمئن نہیں ہورہے ہیں، ساری دنیا میں پٹرول سستا ہونے کے باوجود انھیں صرف ایک روپیہ کا ریلیف دیا گیا۔ جب دس روپے کا ریلیف دینے کا وقت آیا تو حکومت نے اسے لیوی بڑھا کراپنے خزانے میں ڈال لیا۔ستر روپے فی لٹر لیوی یہ قوم کس جرم میں ادا کررہی ہے اسے اس جرم کا پتا ہی نہیں۔خراب معاشی حالات کی وجہ سے قوم کی تنخواہوں میں اضافہ تو نہیں کیاجاتا لیکن اپنے لوگوں اورپارلیمنٹرین کی ماہانہ تنخواہوں میں چار سوفیصد تک اضافہ کر دیا جاتا۔کیا یہ پارلیمینٹرین معاشرے کے اس غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو عوام سے زیادہ بد حال اوربے کس ومجبور ہیں۔ حکومت ابھی تک اس اضافے کو JUSTIFY بھی نہیںکرپائی ہے اورتنقید کاجواب دینے سے بھی گریزاں ہے۔

معاشی خوشحالی کے ثمرات اپنی جھولی میں ڈالتے ہوئے عوام کی حالت زار کا بھی خیال نہیںآیااورنہ IMF کی کڑی شرائط کا۔ عوام کو ایک روپیہ ریلیف دینے کے لیے IMF کی منظوری کا شور ڈالا جاتا ہے لیکن اپنی ان شاہ خرچیوں پرکوئی اجازت بھی نہیں لی جاتی۔اللہ اللہ کرکے حکومت نے ابھی اس بجلی کے نرخ کم کرنے کا اعلان مرحمت فرمایا ہے جو اسی کے غلط فیصلوں کی وجہ سے عوام کو ساری دنیا میں سب سے مہنگی مل رہی ہے۔

سات روپے فی یونٹ کا اعلان بھی لگتا ہے اسی اعدادوشمار کا ہیر پھیردکھائی دیتا ہے جو ہمارے سالانہ بجٹ کے اعدادو شمار میںعام طور پرکیاجاتا ہے۔ جب اگلے ماہ بجلی کابل عوام کے ہاتھوں میں آئے گا تو اسوقت اس کا اصل پتا چلے گا کہ یہ ریلیف کتنا ہے۔حکومت کو بجلی کے بلوں میں اُن ٹیکسوں کو بھی دیکھنا ہوگا جو دس سے چودہ مختلف مدوں میں قوم پرعائد ہیں اورجس کی وجہ سے بجلی اپنی اصل قیمت سے بھی زیادہ بلکہ دگنی ہوجاتی ہے،جس طرح حکومت نے IMFکی شرط کے بغیر ہی پٹرول پر 70 فیصد لیوی لگا دی ہے اسی طرح اس نے بجلی کے بلوں کو بھی اپنے تمام اضافی اخراجات کو پورے کرنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے ۔

گزشتہ ایک برس میں وزیراعظم نے بے شمار غیر ملکی دورے کیے اورہردورے کے اختتام پراُن ملکوں کے ساتھ اپنے ملک میں سرمایہ کاری کے کئی کئی MOUسائن بھی کیے لیکن اُن MOU پرعملدرآمد کب شرو ع ہوگا کسی کو پتا نہیں۔ یہ MOU جب تک صرف کاغذوں پرہیں اُن سے ملک کی ترقی کی آس واُمیداپنے تئیں دھوکا دینے کے مترادف ہے۔وہ جب حقیقت میں فعال ہونگے تب ہی پتا چلے گا کہ یہ کتنے مفید اورفائدہ مندہیں۔

وزیراعظم نے اس بار ادھار مانگنے کا انداز بدل ڈالا ہے اوردر در کشکول لے کر ادھار اورامداد مانگنے کے بجائے سرمایا کاری کی درخواست کا باعزت طریقہ اپنایا ہے۔کہنے کو اور دیکھنے کو تو یہ کچھ اچھا معلوم ہورہا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ سامنے والا پراس کا کیا اثر ہوتا ہے اوروہ حقیقت میں سرمایہ کاری کرنے پرکتنی دلچسپی دکھاتا ہے۔ فی الحال تو یہ صرف زبانی وکلامی وعدے ہی ہیں جنھیں پورا کرنے کی کوئی مدت بھی تجویز نہیں کی گئی ہے۔

 ہماری معیشت اگر حکومتی دعوؤں کے مطابق ٹیک آف کرچکی ہے اور فارن ایکسچینج بھی بڑھنے لگا ہے تو دوست ممالک سے مستعار لیے گئے آٹھ نو ارب ڈالرکیونکر واپس نہیں کردیے جاتے الٹا اُن سے ہرسال درخواست کیوں کی جاتی ہے کہ انھیںمزید ایک برس اور ہمارے خزانوں میں رہنے دیاجائے ۔پتا نہیں اس طرح یہ کام کب تک چلتا رہے گا۔حکومت اگر سارے ڈالریکمشت واپس نہیں کرسکتی ہے تو کم از کم قسطوں ہی میں انھیں واپس کردیاجائے۔مگر نہیں اس طرح ہماری مستحکم معیشت کاساراپول کھل کرواضح ہوجائے گا۔ معاشی استحکام کے لیے جہاں سیاسی استحکام ضروری ہوتا وہاں امن وامان بھی ضروری ہوتا ہے۔

کیا ہمارے یہاں اس وقت یہ دونوں استحکام موجود ہیں۔ ملک کے دوبہت اہم صوبے اس وقت سخت عدم استحکام سے دوچار ہیں۔دہشت گردی کی وجہ سے جب ہمارے اپنے لوگ ہی وہاں محفوظ نہیں ہیںتو کسی غیر ملکی سرمایہ کارکی حفاظت کیسے ممکن ہوپائے گی۔ چینی کارندوں کی ناگہانی ہلاکت کی وجہ ہم برادر دوست ملک کے سامنے شرمندہ ہوتے رہے ہیں اور جس کی وجہ سے اس ملک کا اعتماد بھی مجروح ہوا ہے ۔ہم ابھی تک وہ اعتماد بحال نہیں کرپائے ہیں تو پھر ایسے میں کوئی دوسرا ملک کیسے یہاں سرمایاکاری پرراضی اوررضامند ہوپائے گا۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی وجہ سے عوام کو مل رہی رہی ہے ہے اور

پڑھیں:

معاشی اثاثہ

معاشی استحکام قومی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس کے لیے اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ ازبس ضروری ہے۔ برسر اقتدار حکومت کے معاشی ماہرین کی یہ اولین ذمے داری ہے کہ وہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ایسے راستے تلاش کریں کہ قومی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو، قرضوں کے بوجھ میں کمی اور دوست ملکوں سے امداد کے حصول سے نجات اور سب سے بڑھ کر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے شکنجے سے گلوخلاصی ممکن ہو سکے۔

عالمی معیشت کا مقابلہ کرنے، اپنے عوام کو سہولتیں دینے اور اپنے پاؤں پر مضبوطی سے کھڑے ہونے کے لیے ہمیں اپنی راہیں خود تلاش کرنی ہوں گی۔ اس بات سے انکار نہیں کہ شہباز حکومت معاشی استحکام کے لیے مقدور بھر کوششیں کر رہی ہے۔ اس ضمن میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی پس پردہ مساعی اور یقین دہانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ دوست ملکوں چین، سعودیہ عرب، قطر اور یو اے ای سے لے کر عالمی مالیاتی اداروں سے قرضوں کے حصول تک آرمی چیف کا کردار نمایاں نظر آتا ہے۔

رواں ماہ میں دو اہم کنونشن کا انعقاد کیا گیا اول منرل انوسٹمنٹ اور دوم سمندر پار پاکستانیوں کا کنونشن۔ دونوں اجلاسوں سے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کے علاوہ آرمی چیف کا مدبرانہ خطاب اس امر کا عکاس ہے کہ قومی معیشت کی بحالی اور پائیدار بنیادوں پر استحکام کے حوالے سے وہ پوری طرح سنجیدہ ہیں اور حکومتی پالیسیوں کو ان کا تعاون حاصل ہے جو یقینا خوش آیند بات ہے۔

پاکستان بلاشبہ معدنی ذخائر سے مالا مال ملک ہے۔ یہاں سونے چاندی سے لے کر گیس، تیل اور کوئلہ تک بے شمار معدنی اشیا زمین کے سینے میں دفن ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معدنی خزانوں کو سنجیدگی سے تلاش کرکے ان سے پوری طرح استفادہ کیا جائے تاکہ قومی معیشت کو استحکام ملے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو۔ وزیر اعظم نے منرل انوسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے درست کہا کہ ہمارا معدنی شعبہ برسوں سے خصوصی توجہ کا طالب تھا۔ ملک میں موجود کھربوں ڈالر کے معدنی ذخائر سے استفادہ کرکے قرضوں سے نجات اور آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بیرونی سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی صلاحیتوں اور ہنرمندی و مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان میں معدنی معیشت میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں۔ آرمی چیف نے واضح طور پر کہا کہ پاک فوج بیرونی سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے فول پروف سیکیورٹی اقدامات کو یقینی بنائے گی۔ سپہ سالار اعظم نے درست کہا کہ پاکستان معدنی معیشت میں ایک رہنما کے طور پر ابھر رہا ہے اور جب معدنی ذخائر سے استفادے کے لیے ہنرمندی، صلاحیت اور مہارت بھی موجود ہو تو پھر مایوسی کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

پاکستان میں معدنی وسائل کا جو خزانہ پوشیدہ ہے اگر صحیح معنوں میں اس سے استفادہ کرنے کے مواقع میسر آجائیں تو نہ صرف عوام کی ترقی و خوشحالی کے سفر کا عمدہ آغاز ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کو کشکول اٹھا کر دوست ملکوں اور عالمی مالیاتی اداروں کے پاس جانے کی حاجت بھی باقی نہیں رہے گی۔

اگرچہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں قدرتی وسائل کے وسیع ذخائر موجود ہیں، تاہم اس ضمن میں بلوچستان سب سے زیادہ مالا مال صوبہ ہے۔ لیکن افسوس کہ وہاں امن و امان کی گمبھیر صورت حال کے باعث سرمایہ کاروں کے تحفظات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک بلوچستان کے لوگوں کی محرومیوں کا ازالہ نہیں ہوگا، ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے وہاں امن کے قیام کا خواب تشنہ تعبیر رہے گا۔ ایسے ماحول میں سرمایہ کاروں کو آمادہ کرنا گویا جوئے شیر لانے کے برابر ہوگا۔

سمندر پار پاکستانیوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے کردار، محنت، لگن، وطن دوستی اور اپنی مٹی سے محبت کے جذبے کو سراہا اور انھیں اپنے سر کا تاج اور پاکستان کا ایمبیسڈر قرار دیا۔ وزیر اعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے مراعاتی پیکیج کا بھی اعلان کیا۔

ان کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی اقدامات اٹھانے کا یقین دلایا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے تقریب سے پرجوش خطاب کرتے ہوئے سمندر پار پاکستانیوں کے جذبات اور خدمات کو قابل تحسین قرار دیا۔ انھوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں کی دس نسلیں بھی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ بلاشبہ دہشت گرد ایک نہ ایک دن ختم ہو جائیں گے۔ پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا انشا اللہ۔ حکومت کو سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے حق سمیت تمام مسائل حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے کہ یہ قوم کا معاشی اثاثہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی حکومت نے پاکستان کے نوجوانوں کی سماجی و معاشی خودمختاری کے لیے درجنوں پروگرامز شروع کیے ہیں،چیئرمین یوتھ پروگرام رانا مشہود
  • سی پیک نے پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، قیصر احمد شیخ
  • معاشی اثاثہ
  • عوام کا ریلیف حکومت کے خزانے میں
  • وفاقی حکومت کا بجلی کی قیمت میں مزید ریلیف دینے کا فیصلہ
  • شہباز خدا کا خوف کرو، کلمہ پڑھتے ہو اور 25 کروڑ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈال کر بیٹھے ہو، محمود اچکزئی
  • وفاقی حکومت کسی وقت بھی گرسکتی: پیپلز پارٹی رہنما شازیہ مری
  • معاشی ترقی اور اس کی راہ میں رکاوٹ
  • سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں. اسد عمر
  • بلوچوں کا مطالبہ سڑکوں کی تعمیر نہیں لاپتہ افراد کی بازیابی ہے، شاہد خاقان عباسی