Express News:
2025-04-22@07:37:59 GMT

مودی، ٹرمپ اور ٹیرف

اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT

تقریباً ایک ماہ قبل دو غیر ملکی حکمرانوں کی امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، سے واشنگٹن میں ملاقاتوں کا بڑا شہرہ ہے ۔ یوکرین کے نوجوان صدر ، ولادیمیر زلنسکی، کو امریکی صدر سے ملاقات کے دوران جو ہزیمت اور توہین برداشت کرنا پڑی ہے، اِس کی بازگشت ابھی تک ساری دُنیا میں سنائی دے رہی ہے ۔

اِس ملاقات کا ایک بڑا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ امریکا نے جنگ کی بھٹی میں دہکتے یوکرین کی بڑی فوجی امداد تقریباً روک دی ہے ۔ جو معاہدہ کرنے زلنسکی صاحب واشنگٹن گئے تھے ، وہ بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکا ۔یوکرینی صدر ندامت اُٹھا کر خالی ہاتھ واپس گھر آئے ہیں۔

یوکرینی صدر سے قبل بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی، نے واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی ۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی بی جے پی حکومت بڑی خوش تھی کہ مودی جی دُنیا کے وہ دوسرے ’’خوش قسمت‘‘ حکمران ہیں جنھیں امریکی صدر نے اپنے دوسرے دَورِ اقتدار میں اوّلین شرفِ ملاقات بخشا ۔ حقائق ، عالمی میڈیا اور خود بھارتی شہادت دے رہے ہیں کہ بھارتی وزیر اعظم کے ہاتھ بھی واشنگٹن سے کچھ نہیں آیا ، سوائے ندامت کے!  

مثلاً:وکاتن (Vikatan)بھارتی ریاست ’’تامل ناڈو‘‘ کا معروف میڈیا ہاؤس ہے ۔ اُس نے گزشتہ روز اپنی مقبول و محبوب ویب سائیٹ پر ایک کارٹون شایع کیا ۔ کارٹون میں دکھایا گیا ہے کہ نریندر مودی امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، کے سامنے یوں بیٹھے ہیں کہ اُن کے ہاتھ، پاؤں زنجیروں میں بندھے ہیں۔

 امریکی صدر مسکرا رہے ہیں اور بھارتی وزیر اعظم سہمے ہُوئے کنکھیوں سے ٹرمپ کی جانب دیکھ رہے ہیں ۔ مذکورہ تامل میڈیا ہاؤس نے کہا ہے کہ’’ اگرچہ ہمیں مودی جی کی مرکزی حکومت کی جانب سے براہِ راست کوئی حکم موصول نہیں ہُوا لیکن اِس کے باوجود دِلّی سرکار نے خاموشی سے ہماری تمام ویب سائیٹس بند کر دی ہیں۔ ہمیں مرکزی حکومت کے ذرایع نے بتایا ہے کہ یہ سزا ہمیں اس لیے دی گئی ہے کیونکہ ہمارے ادارے نے مودی جی بارے (مذکورہ) کارٹون شایع کیا ہے ۔‘‘

اِس کارٹون کا ایک پس منظر ہے : مودی جی ابھی واشنگٹن نہیں پہنچے تھے کہ ڈونلڈٹرمپ کے حکم سے امریکا میں مقیم غیر قانونی104بھارتیوں کو امریکی جنگی جہاز میں زبردستی لاد کر، انتہائی توہین آمیز طریقے سے، بھارت بھجوایا گیا تھا ۔ اِن میں بچے اور خواتین بھی تھیں۔ سب کے ہاتھ پاؤں زنجیروں میں جکڑے ہُوئے تھے ۔

بھارت بھر میں اِس امریکی رویئے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ مودی حکومت مگر اِس توہین پر خاموش رہی ۔اور جب واشنگٹن میں امریکی صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم مودی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ، تب بھی امریکی صحافیوں نے مودی جی سے زنجیروں میں جکڑے ڈیپورٹ کیے گئے بھارتیوں بارے سوال کیا۔ مودی جی پھر بھی خاموش رہے اور بیچارگی سے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب دیکھتے پائے گئے ۔ بھارتی تامل میڈیا کا مذکورہ بالا طنزیہ کارٹون دراصل اِسی توہین کے پس منظر میں شایع کیا گیا تھا ۔

مگربھارتی گودی میڈیا نریندر مودی کے دَورۂ امریکا کی’’ کامیابیوں‘‘ کو اُچھالنے کی ہر ممکنہ سعی کررہا ہے۔ساتھ ہی بھارتی سوشل میڈیا میں مودی کو واشنگٹن میں جن پریشانیوں ، ندامتوں اورناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ، بین السطور اِن کا ذکر اذکار بھی بلند آہنگی سے ہورہا ہے۔ مودی کے بھارتی مخالفین اپنے دل کے پھپھولے پھوڑ رہے ہیں ۔

مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں زبان درازی کرتے ہُوئے پاکستان کے خلاف بے بنیاد تہمتیں عائد کی ہیں ۔ پاکستان نے اِس کا ترنت استرداد بھی کیا ہے ۔ مودی کو یہ دَورئہ امریکا خاصا مہنگا پڑا ہے ۔ امریکا پہنچنے سے قبل ، پیرس میں قیام کے دوران، جس طرح فرانسیسی صدر، ایمونل میکرون، نے بھری مجلس میں مودی سے مصافحہ کرنے سے انکار کیا( حالانکہ مودی جی مصافحہ کے لیے اُٹھ کر اپنا ہاتھ فرانسیسی صدر کی جانب بڑھا بھی چکے تھے) اِس منظر نے بھارت سمیت ساری دُنیا میں مودی جی کی بدنامی میں اضافہ کیا ہے ۔

یہ درست ہے کہ مودی جی امریکی صدر کے شدید دباؤ اور دھمکیوں کے کارن جدید امریکی ہتھیار لینے میں ’’کامیاب‘‘ رہے ہیں مگر سفارتی اور مکالمے کی دُنیا میں مودی کو اِس دَورے میں کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی ۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سفارتی سطح پر مودی کی شخصیت دَب کر رہ گئی ہے ۔ اور یہ کھلے مناظر ایک دُنیا نے ملاحظہ کیے ہیں ۔ مثال کے طور پر واشنگٹن میں جب مودی اور ٹرمپ مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے تھے ، مودی صاحب امریکی صحافیوں کے تیز وتند سوالات کے براہِ راست جواب ہی نہ دے سکے ۔ جواب دینے کے لیے موصوف نے اپنی نشست کے عقب میں دو مترجم اور ترجمان بٹھا رکھے تھے ۔

وہی پرچیوں پرجواب لکھ لکھ کر مودی جی کے حوالے کررہے تھے ۔ اوپر سے مودی جی کی انگریزی کا لہجہ۔ اُف خدایا ۔ بھارتی اِس منظر سے خاصے بددل ہُوئے ۔ اہم بات یہ بھی کہ مودی جی اپنے قریبی دوست( ارب پتی بھارتی سرمایہ دار گوتم اڈانی) کے بارے پوچھے گئے سوال کا جواب بھی دے سکے نہ امریکی صدر سے اُسے معافی دلا سکے ۔

اِس ناکامی پر بھی بھارتی و عالمی میڈیا مودی جی کے خوب لتّے لے رہا ہے ۔ گوتم اڈانی آج کل امریکی حکام کی کڑی نظروں میں ہے ۔ اس پر امریکا میں رشوت اور کرپشن کا سنگین الزام ہے ۔ ٹرمپ اس کے خلاف خاصی سخت زبان استعمال کر چکے ہیں ۔ بھارتی میڈیا میں اِس ناکامی پر مودی جی کو شدید تنقیدات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، یہ کہہ کر کہ گوتم اڈانی کی دولت کے بَل پر مودی جی گزشتہ کئی برسوں سے مفادات سمیٹتے رہے ہیں اور اب اپنے محسن کو امریکی صدر سے ’’فیور‘‘ نہیں دلوا سکے ۔

انڈین اپوزیشن لیڈر، راہل گاندھی ، نے بھی کہا ہے کہ مودی جی نے امریکا میں اڈانی بارے خاموش رہ کر ایک کرپٹ آدمی کا تحفظ کیا ہے۔انڈین میڈیا میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بھارت میں تو پریس کانفرنسوں میں مودی جی اپنے ساتھ امیت شاہ (بھارتی وزیر داخلہ) کو بٹھا لیتے ہیں ۔ وہی اُن کی ترجمانی کرتے ہُوئے سوالات کے جوابات دیتے ہیں ۔ اور اب جب امریکا میں مودی کو امیت شاہ کے بغیر کھلی پریس کانفرنس میں براہِ راست سوالات کے جواب دینا پڑے ہیں تو وہ ڈھے گئے ۔

نریندر مودی صاحب ابھی امریکا ہی میں تھے کہ امریکا نے مزید119 غیر قانونی بھارتیوں کو امریکا سے نکال باہر کیا۔ یہ اقدام مودی جی کی مزید توہین سمجھا گیا ہے ۔ بھارتی اُن سے سخت نالاں ہیں کہ وہ امریکا میں مقیم بھارتیوں کا تحفظ کرنے میں نا کام رہے ہیں ۔ اِس کھیپ میں بھی ، پہلی کھیپ کی طرح ، اکثریتی بھارتی پنجاب کے شہریوں کی بتائی گئی ہے ۔

یوں مشرقی پنجاب کے سکھوں میں مودی کے خلاف زیادہ غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔ بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ،بھگونت سنگھ مان، نے اِس پر دلّی سرکار کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔ امریکا سے ڈیپورٹ ہونے والے یہ بھارتی سکھ ایجنٹوں کو 30 سے 50 لاکھ روپیہ فی فرد دے کر اور خجل خوار ہو کر امریکا پہنچے تھے۔ مودی جی اِس دَورے میں ٹرمپ صاحب سے بھارت پر عائد کیے گئے سخت ٹیرف کو بھی کم کرانے میں بُری طرح ناکام رہے ہیں ۔

بھارتی اسٹیل انڈسٹری کو خاص طور پر ٹیرف کے حوالے سے ناکامی کے کارن سخت دھچکا پہنچا ہے۔ اِسے بھی بھارتی ناکامی کہا جائے گا کہ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد اب بھارت کو ایران کے بجائے امریکا سے تیل خریدنا پڑے گا۔ 2مارچ کو یہ بھی خبر آئی ہے کہ امریکا نے ایرانی تیل کی تجارت میں ملوث 4بھارتی کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں ۔

ٹرمپ نے یہ کہہ کر مودی جی کو مزید پریشان کیا : ’’بھارت نے امریکی سامان پر جو بھاری ٹیرف عائد کررکھا ہے، اِسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘ ٹرمپ نے اپنے کہے پر یوں عمل بھی کیا ہے کہ دُنیا کے کئی ممالک کے ساتھ بھارت اور پاکستان پر بھی بھاری ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ اگرچہ بھارت کی نسبت پاکستان پر تین فیصد ٹیرف زیادہ ہے ۔ عالمی ماہرینِ اقتصادیات کا مگر کہنا ہے کہ ٹرمپ کے فیصلے سے پاکستان کے مقابل بھارت زیادہ متاثر ہوگا۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارتی وزیر اعظم پریس کانفرنس واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکا میں امریکی صدر مودی جی کی کہ مودی جی بھارتی ا کے خلاف رہے ہیں کی جانب مودی کو کیا ہے

پڑھیں:

جنگل کا قانون نہیں چلنے دیں گے، چین کا امریکا کو کرارا جواب

چین نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے والے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ملک وقتی مفاد کے لیے دوسروں کے مفاد کو نقصان پہنچاتا ہے تو وہ گویا شیر کی کھال مانگ رہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے ایما پر چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے معاہدوں سے دور رہیں۔

ترجمان وزارتِ تجارت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چین اپنے حقوق اور مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا اور اگر کسی نے اس کے مفادات کے خلاف معاہدہ کیا تو سخت جوابی اقدامات کرے گا۔

چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے ایک بیان میں امریکا پر الزام لگایا کہ وہ برابری کے نام پر تجارتی شراکت داروں کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے اور سب کو جوابی ٹیرف مذاکرات پر مجبور کر رہا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا کا یہ رویہ عالمی تجارتی نظام کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔  اگر امریکا کی یک طرفہ پالیسیوں کو قبول کیا گیا تو عالمی نظام "جنگل کے قانون" کی طرف لوٹ جائے گا جہاں طاقتور کمزوروں پر ظلم کریں گے۔

چینی ترجمان نے مزید کہا کہ ہم امریکا کا یہ جنگل کا قانون نہیں چلنے دیں گے اور اپنے مفادات کا بھرپور تحفظ کریں گے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کئی ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ چین کے ساتھ تجارتی روابط محدود کریں تاکہ امریکی ٹیرف میں نرمی حاصل کر سکیں۔

یاد رہے کہ امریکہ نے چین پر 145 فیصد تک کے ٹیرف عائد کر رکھے ہیں جبکہ چین نے بھی جوابی طور پر  امریکی مصنوعات پر 125 فیصد ٹیرف نافذ کیے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم مودی کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، حج کوٹہ اور 6 اہم معاہدوں پر دستخط متوقع
  • ٹرمپ ٹیرف: چین کا امریکا کے خوشامدی ممالک کو سزا دینے کا اعلان
  • جنگل کا قانون نہیں چلنے دیں گے، چین کا امریکا کو کرارا جواب
  • ٹرمپ انتظامیہ چین سے تجارتی تعلقات محدود کرنے کے لیے مختلف ممالک پر دباﺅ ڈال رہی ہے.بیجنگ کا الزام
  • امریکہ کے نائب صدر کا دورہ بھارت اور تجارتی امور پر مذاکرات
  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس تجارتی مذاکرات کے لیے بھارت پہنچ گئے
  • امریکی سپریم کورٹ نے وینزویلا کے باشندوں کی جبری ملک بدری روک دی
  • بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آئندہ ہفتے دو روزہ دورے پر سعودی عرب جائیں گے
  • ٹرمپ انتظامیہ شام پر عائد پابندیوں میں نرمی پر غور کر رہی ہے،امریکی اخبار
  • ایلون مسک سے ٹیکنالوجی میں امریکہ کے ساتھ تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ہے.نریندرمودی