پی ٹی آئی کا وزیر اعلیٰ ایک بار پھر ریاست کی پالیسیوں کے خلاف کھڑا ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
سٹی42: پی ٹی آئی کا وزیر اعلیٰ ایک بار پھر ریاست کی اچھی طرح ڈسکس کر کے بنائی ہوئی پالیسیوں کے خلاف کھڑا ہو گیا۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ نے غیر قانونی افغانوں کو نکالنے کے عمل میں معاونت کرنے سے انکار کر دیا۔
خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صوبے سے غیر قانونی افغانوں کو نہ نکالنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں ملک میں جاری دہشت گردی کا واحد حل مذاکرات ہیں۔
افغانیوں کا انخلا، لاہور میں افغانی باشندوں کی تعداد کتنی؟
اڈیالہ جیل مین کرپشن کیس کی سزا کاٹ رہے اپنے بانی سے ملاقات کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ بانی کہتے ہیں ملک میں جاری دہشت گردی کا واحد حل مذاکرات ہیں۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کی اس ہی دو رخی پالیسی کے نتیجہ میں صوبہ میں دور افتادی سرحدی علاقوں سے بڑھ کر مرکزی شہروں تک پھیل گئے ہیں اور اب یہ بات ہر خاص و عام کی زبان پر ہے کہ خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں شام ہوتے ہی پی ٹی آئی حکومت ختم ہو جاتی ہے اور دہشتگردوں کا راج شروع ہو جاتا ہے۔
صدر پاکستان کبڈی فیڈریشن کی اہلیہ کا انتقال،نواز شریف تعزیت کے لئے گھرپہنچ گئے
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے اسلام آباد میں اپنی پریس کانفرنس میں ڈھٹائی کے ساتھ کہا، جب ہماری حکومت تھی اس وقت دہشت گردی نہیں تھی، جب ہماری حکومت ختم کی گئی اس کے بعد ہمارے خلاف کارروائیاں شروع کی گئیں اور یہ لوگ ہمارے خلاف کارروائیوں میں مصروف رہے اور اصل کام پر ان کی توجہ نہیں رہی۔ خیبر پختونخوا میں گزشتہ دس سال سے زیادہ عرصہ سے صرف پی ٹی آئی کی ہی حکومت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوئی۔ پی ٹی آئی کے نقادین کہتے ہیں کہ عمران خان کی اسلام آباد مین حکومت کے دوران ان کی ہدایت پر افغانستان میں چھپ کر رہنے والے ہزاروں دہشتگردوں کو معافی دے کر پاکستان واپس لا کر خیبر پختونخوا میں آباد کیا گیا تھا۔ اس پالیسی کے نتیجہ میں ہی دہشتگردوں نے افغانستان کو بیس بنا کر خیبر پختونخوا مین دہشتگردی کا بازار گرم کیا اور اب خیبر پختونخوا میں ان کی سرگرمیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ افغانستان سے افغان شہریوں کو لا کر پاکستان کے عسکری اداروں پر حملے کروائے جاتے ہیں۔ بنوں کینٹ پر حملے میں مارے جانے والے دہشتگردوں میں سے پانچ دہشتگرد افغان شہری نکلے تھے۔
پنجاب کے پہلے سرکاری کینسر ہسپتال کو الگ ادارے کی قانونی حیثیت حاصل
۔
ریاست "ٹرمز آف ریفرنس" بنائے تاکہ گنڈاپور افغانستان کے ساتھ مذاکرات کرے
وزیراعلیٰ گنڈاپور نے کہا کہ میں کہہ رہا ہوں 'ٹی او آرز' بنائیں تاکہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کیے جاسکیں، اس کے بغیر کوئی حل نہیں ہے۔
ہم میں کیپیسٹی کی کمی ہے، ذمہ دار وفاقی حکومت ہے
آرگنائزڈ کرائم یونٹ کی کارروائی, ناجائز اسلحہ سپلائی کرنے والا گروہ گرفتار
علی امین گنڈاپور نے دہشتگردوں کو روکنے میں اپنی صوبائی حکومت کی ناکامی کا ملبہ بھی وفاقی حکومت پر ہی ڈال کر کہا، ہم میں کپیسٹی کی کمی ہے اور اس کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔
ہمارے علاقے میں "واقعات" پر سیاست نہ کریں
علی امین گنڈا پور نے اپنی حکومت کی بد ترین ناکامیوں پر تنقید کو "سیاست قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ "ہر چیز میں سیاست نہ کی جائے، افسوس ہے وفاقی حکومت اور وزرا ہمارے علاقے میں واقعات پر سیاست کررہے ہیں۔
سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرنے والی منفرد کھڑکیاں تیار
گنڈاپور نے کہا کہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام اداروں نے ایکشن کیا، جب سے ہماری حکومت آئی ہے سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کو 30 ارب روپے دیے ہیں، صوبائی حکومت کا ایکشن پلان جاری ہے۔
پاکستان میں امن ؟ افغانستان میں امن قائم کروائیں
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عوام اپنے فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں، وفاقی حکومت کے بیانات خطرناک ہیں، افغانستان میں جب تک امن نہیں ہوگا اس پورے خطے میں امن نہیں ہوسکتا۔
خارجی دہشتگرد غلط نہیں بلکہ ہماری پالیسیاں غلط ہیں
گنڈاپور نے خارجی دہشتگردوں کے سنگین جرائم کا دفاع کرتے ہوئے ان کی دہشتگردی کا ذمہ دار بھی ہم کو ٹھہرایا اور الزام لگایا کہ ہماری پالیسیاں غلط ہیں، ہماری پالیسیوں کی وجہ سے ان لوگوں (خارجی دہشتگردوں)نے ہتھیار اٹھایا ہے۔ گنڈاپور نے کہا، (خارجی دہشتگردوں کے ساتھ) اعتماد کا رشتہ بنانا پڑے گا، جب تک افغانستان اور بارڈر ایریاز میں امن نہیں ہوتا حالات ٹھیک نہیں ہوگا۔
ریاست کی پالیسی مستردکردی
علی امین گنڈاپور نے ریاست کی غیر قانونی افغانوں کو پاکستان سے نکالنے کی طے شدہ پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے کہا، کے پی میں ہم زبردستی لوگوں کو افغانستان سے نہیں بھجوائیں گے، صوبے کی پولیس اور صوبے کی انتظامیہ کسی کو بھی زبردستی نہیں نکالے گی۔ ہم کیمپ لگائیں گے جو رضاکارانہ طور پر جانا چاہیں ان کو افغانستان بھجوائیں گے۔
میں "نکلوں گا"
علی امین گنڈاپور نے ایک بار پھر "نکلوں گا" کا نعرہ بھی لگا دیا۔ گنڈاپور نے کہا کہ این ایف سی نہ دینا 58لاکھ آبادی کے ساتھ زیادتی ہے، میرے ساتھ اپریل میں این ایف سی بلانے کا وعدہ کیا گیا تھا، اپریل کا مطلب اپریل ہے، آئینی حق کے لیے میں نکلوں گا۔
گنڈاپور نے دھمکی دی، میں پورے صوبے، پولیس اور سرکاری ملازمین کو لے کر نکلوں گا، ہمیں 75ارب روپے نہیں دیا گیا ۔ یہ بجلی کے ڈیٹ کے علاوہ ہے، ہم پاکستان کا حصہ ہیں ہمیں یہ دیا جائے۔
علی امین گنڈاپور کا فلسفہِ دہشتگردی
پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پاکستان کو کینسر کی طرح لاحق دہشتگردی کا انوکھا جواز یہ پیش کیا کہ دہشت گردی پاکستان میں اس لیے ہے کہ یہ اسلامی ملک ہے، جہاں سے غزوہ ہند ہونی ہے وہ یہی خطہ ہے، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ ہوا جس میں لکھا ہے اس خطے میں معدنیات ہیں اور اس کے بعد سے یہاں دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے میری ملاقات دو دو مہینے بعد کیوں ہوئی، عمران خان ڈیل نہیں کرے گا، وہ کسی ڈیل کیلئے جیل میں نہیں ہے، مذاکرات پاکستان کے لیے ہوں گے، اگر کوئی راستہ نکلتا ہے تو مذاکرات ہونے چاہئیں۔
Waseem Azmet.ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور نے خیبر پختونخوا میں گنڈاپور نے کہا کہ وفاقی حکومت پی ٹی ا ئی کرتے ہوئے نکلوں گا ئی حکومت ریاست کی گردی کا کے ساتھ
پڑھیں:
امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف سینکڑوں مظاہرے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 20 اپریل 2025ء) صدر ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت میں ان کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ہزاروں افراد ملک بھر میں منعقدہ درجنوں تقریبات میں سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے ٹرمپ کی جارحانہ امیگریشن پالیسیوں، بجٹ میں کٹوتیوں، یونیورسٹیوں، نیوز میڈیا اور قانونی اداروں پر دباؤ سمیت یوکرین اور غزہ کے تنازعات سے نمٹنے کی پالیسی کی مذمت کی۔
اقتدار میں واپس آنے کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ نے ارب پتی ایلون مسک کے ساتھ مل کر حکومتی اخراجات میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کی ہیں۔ انہوں نے دو لاکھ سے زیادہ وفاقی ملازمین کو فارغ کیا اور اہم وفاقی ایجنسیوں جیسے کہ USAID اور محکمہ تعلیم کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر تنقیدٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی ریلیاں گروپ 50501 کی قیادت میں منعقد کی جا رہی ہیں، جس کا مطلب پچاس ریاستوں میں پچاس مظاہرے اور ایک تحریک کی نمائندگی کرنے والوں کا اتحاد ہے۔
(جاری ہے)
یہ گروپ اپنی احتجاجی ریلیوں کو "ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے ساتھیوں کے جمہوریت مخالف اور غیر قانونی اقدامات کا ایک ردعمل قرار دیتا ہے۔"ایک احتجاجی ریلی میں اپنی پوری فیملی کے ساتھ شریک اسی سالہ تھامس باسفورڈ نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان نسل اس ملک کی اصلیت کے بارے میں جانیں۔ ان کے بقول، آزادی کے لیے امریکہ میں یہ ایک بہت خطرناک وقت ہے۔
"بعض اوقات ہمیں آزادی کے لیے لڑنا پڑتا ہے۔" 'امریکہ میں کوئی بادشاہ نہیں'مظاہرین نے ٹرمپ کی ملک بدری کی پالیسیوں کا نشانہ بننے والے تارکین وطن کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان وفاقی ملازمین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا جنہوں نے اپنی ملازمتیں کھو دی تھیں۔ انہوں نے ان یونیورسٹیوں کے حق میں بھی آواز بلند کی جن کے فنڈز میں کٹوتی کا خطرہ ہے۔
نیویارک میں مظاہرین نے "امریکہ میں کوئی بادشاہ نہیں" اور "ظالم کے خلاف مزاحمت" جیسے نعروں کے ساتھ مارچ کیا۔
دارالحکومت واشنگٹن میں لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ ٹرمپ جمہوریت اور ملک کے اقدار کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ مظاہرین نے کیفیہ اسکارف کے ساتھ مارچ کیا اور "آزاد فلسطین" کے نعرے لگائے۔ چند لوگوں نے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یوکرین کا پرچم اٹھا رکھا تھا۔
امریکی مغربی ساحل پر واقع شہر سان فرانسسکو میں کچھ مظاہرین نے امریکی پرچم الٹا اٹھا رکھا تھا، جو عام طور پر پریشانی کی علامت ہے۔
ادارت: رابعہ بگٹی