نوازشریف کی شہبازشریف کو بلوچستان میں ہر حال میں امن قائم کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو ہدایت دی ہے کہ بلوچستان میں ہر حال میں امن قائم کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق جاتی امرا میں ملاقات کے دوران نواز شریف نے کہا کہ پنجاب بڑے بھائی کا کردار ادا کرے اور ہر ممکن مدد فراہم کرے۔انہوں نے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے نواز شریف کو ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال اور بلوچستان کے حالات سے آگاہ کیا۔وزیراعظم نے انہیں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے ہونے والی تفصیلی گفتگو پر بھی بریفنگ دی اور اہم امور پر مشاورت کی۔
جنگل میں آگ لگانے، درختوں کی غیرقانونی کٹائی کرنے والوں کی شامت، جدید ٹیکنالوجی سے نگرانی کا آغاز
مزید :.ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
شہباز شریف بلوچستان میں موٹر وے کا افتتاح ضرور کرینگے، بنے گی نہیں: مفتاح اسماعیل
اسلام آباد (آئی این پی )عوام پاکستان پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے دعوی کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دور میں بلوچستان میں سڑک مکمل نہیں ہو سکے گی۔ایک انٹرویو میں مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ میں یقین سے کہتا ہوں شہباز شریف دور میں بلوچستان کی سڑک پر کام مکمل نہیں ہوگا۔ وہ سڑک کا افتتاح ضرور کر دینگے لیکن اپنے دور میں سڑک مکمل ہوتے نہیں دیکھ سکیں گے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے کہنے پر پٹرولیم لیوی لگا رہی ہے۔ بلوچستان کا بہانا بنا کر ٹیکس بڑھانا اچھی بات نہیں ہے۔ سڑک دوسرے پیسوں سے بھی بن سکتی تھی۔ حکومت چاہتی تو اپنے پیسوں سے بھی بلوچستان میں سڑکیں بنا سکتی تھی۔رہنما عوام پاکستان پارٹی نے مزید کہا کہ حکومت نے پنجاب میں 8 واں موٹر وے بنایا، لیکن سندھ اور بلوچستان میں بنانا ضروری نہیں سمجھا۔ اس نے اب تک جتنے بھی موٹر وے بنائے تو اس کے لیے لیوی کی ضرورت نہیں پڑی لیکن بلوچستان میں موٹر وے بنانے کے لیے لیوی لگانا پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سڑک بنانے کا بہانا بنایاگیا ہے اس پر ابھی کوئی کام نہیں ہوا۔ حکومت بلوچستان کے لیے سنجیدہ ہوتی تو رہنما وہاں مسائل حل کرنے جاتے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کبھی بھی مسلم لیگ ن کی ترجیح نہیں رہا ہے۔مفتاح اسماعیل نے کینال ایشو پر کہا کہ یہ معاملہ ٹیکنیکل سے زیادہ اعتماد کا بن گیا ہے۔ فریقین میں اعتماد کا فقدان ہے کہ کوئی صوبہ کسی دوسرے صوبے کا پانی نہ لے لے۔ان کا کہنا تھا کہ کہا جا رہا ہے کہ چولستان میں فارمنگ کے لیے سیلاب کا پانی استعمال کیا جائے گا جب کہ سندھ کو خدشہ ہے کہ سیلاب ہر سال تو نہیں آتا، اس لیے ان کا پانی کاٹا جائے گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ قوم پرست جماعتوں نے احتجاج کیا ہے تو پی پی کو پریشانی لاحق ہو گئی ہے۔