جتنی عمر لکھی ہے... سلمان خان کا لارنس بشنوئی کی قتل کی دھمکیوں پر ردعِمل
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
بالی ووڈ کے دبنگ اداکار سلمان خان نے لارنس بشنوئی کی جانب سے ملنے والی جان سے مارنے کی دھمکیوں پر اپنا ردعمل دے دیا۔
انہیں مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیوں پر بات کرتے ہوئے بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے کہا ہے کہ ان کی زندگی خدا کے ہاتھ میں ہے۔
عید پر ریلیز ہونے والی فلم سکندر کے پروموشنل پروگرام کے دوران بھائی جان سے دھمکیوں کے بارے میں ردعمل پوچھا گیا جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اللہ، سب اُن پر ہے، جیتنی عمر لکھی ہے، اتنی لکھی ہے، بس یہ ہے‘۔
59 سالہ اداکار نے دھمکیوں اور ممبئی کے اپنے اپارٹمنٹ کے قریب شوٹنگ کے بعد انہیں فراہم کیے گئے سخت حفاظتی اقدامات سے پیدا ہونے والے چیلنجز کو تسلیم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بعض اوقات، بہت سارے لوگوں کے ساتھ گھومنا پھرنا ایک مسئلہ بن جاتا ہے‘۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس اپریل میں، بائیک پر سوار دو افراد نے باندرہ کے گلیکسی اپارٹمنٹس کے باہر، جو سلمان خان کی رہائش گاہ ہے متعدد گولیاں چلائیں۔ بعد ازاں تحقیقات سے پتہ چلا کہ اس حملے کا مقصد اداکار کو ڈرانا تھا اور یہ حملہ گینگسٹر لارنس بشنوئی کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔
لارنس بشنوئی جو گجرات کی جیل میں قید ہے، سلمان خان سے 1998 کے کالے ہرن کے قتل کیس پر برہم ہے، جس میں وہ ملزم تھے۔ بشنوئی برادری کالے ہرن کو مقدس مانتی ہے اور اس کا شکار کرنے کی وجہ سے اداکار کو کئی سالوں سے مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔
.
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لارنس بشنوئی
پڑھیں:
سعودی عرب کیساتھ تعلقات کا جدید دور شروع ہو چکا ہے، ایرانی سفیر
میڈیا سے اپنی ایک گفتگو میں علی رضا عنایتی کا کہنا تھا کہ سعودی وزیر دفاع "خالد بن سلمان" کا دورہ تہران، دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک سنگ میل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عرب میڈیا الحدث سے گفتگو میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر "علی رضا عنایتی" نے کہا کہ سعودی وزیر دفاع "خالد بن سلمان" کا دورہ تہران، دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک سنگ میل ہے۔ اس دورے کے بعد تہران اور ریاض کے مابین تعلقات کے جدید دور کا آغاز ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ دو سالوں میں سعودی عرب کے ساتھ ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی وزیر دفاع "خالد بن سلمان" نے گزشتہ ہفتے جمعرات کے روز ایران کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ، قومی سلامتی کے ڈائریکٹر اور صدر کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ سعودی وزیر دفاع نے رہبر معظم انقلاب سے بھی ملاقات کی اور انہیں سعودی بادشاہ کا پیغام پہنچایا۔ اس موقع پر رہبر معظم انقلاب نے خالد بن سلمان سے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایران و سعودی عرب کے درمیان تعلقات، دونوں ممالک کے لئے سود مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو مکمل کر سکتے ہیں۔