قانون میں شادی سے پہلے دلہا کے خون کا ٹیسٹ لازمی شامل ہونا چاہئے،وزیر صحت مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہاکہ قانون میں شادی سے پہلے دلہا کے خون کا ٹیسٹ لازمی شامل ہونا چاہئے،دلہا کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ مثبت آنے پر دلہن کا بھی ٹیسٹ ہونا چاہئے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق قومی صحت خدمات کمیٹی کا ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی صدارت میں اجلاس ہوا،وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور سیکرٹری ندیم محبوب نے اجلاس میں شرکت کی،اجلاس میں پی ایم ڈی سی ترمیمی بل 2024پر بحث ہوئی،ترمیمی بل رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز نے پیش کیا تھا۔
شادی سے پہلے دلہا دلہن کا خون ٹیسٹ کرانے کے بل پر شرمیلا فاروقی کااظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تھیلیسیمیا کی روک تھام کیلئے بل کی منظوری ضروری ہے۔
سندھ حکومت کا 4 اپریل کو عام تعطیل کا اعلان
وزیر صحت نے کہاکہ شرمیلا فاروقی کے موقف سے اتفاق کرتا ہوں،وفاقی حدود میں اس قانون کی اشد ضرورت ہے، وزارت مکمل سپورٹ کرے گی،وزیر صحت نے کہاکہ قانون میں شادی سے پہلے دلہا کے خون کا ٹیسٹ لازمی شامل ہونا چاہئے،دلہا کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ مثبت آنے پر دلہن کا بھی ٹیسٹ ہونا چاہئے۔
مزید :.ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ہونا چاہئے
پڑھیں:
افغانستان پولیو ختم کرنے کے لیے پاکستان سے بہتر کوششیں کر رہا ہے، مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں کافی تحقیق ہو رہی ہے تاہم عمل درآمد نہیں ہو رہا جب کہ افغانستان پولیو ختم کرنے کے لیے پاکستان سے بہتر کوششیں کر رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کراچی میں ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ افغانستان پولیو ختم کرنے کے لیے پاکستان سے بہتر کوششیں کر رہا ہے، ڈر ہے کہ کہیں افغانستان پولیو کا خاتمہ پاکستان سے پہلے نہ کر لے، چاہتا ہوں کہ پاکستان اور افغانستان پولیو کا ایک ساتھ خاتمہ کریں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کے صحت کے مسائل کا حل ٹیکنالوجی اور موبائل فون کے استعمال میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑے ہسپتال 70 فیصد مریضوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر کافقدان ہے۔
مصطفی کمال نے مزید کہا کہ ہر شہری کا قومی شناختی کارڈ نمبر اس کا میڈیکل ریکارڈ نمبر بننے جا رہا ہے،اسلام آباد جا کر ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈز کی رپورٹس اور ریسرچ منگوا کر عمل درآمد کرواؤں گا۔
انہوں نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزارت صحت اور تعلیم وفاقی صحت کے ادارے لوگوں کا درد کم نہیں کر رہے بلکہ بڑھا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سی ای او ڈریپ ڈاکٹر عبید اللہ کی صورت میں فارماسوٹیکل انڈسٹری محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
سید مصطفی کمال نے کہا کہ وزارت صحت ایک مشکل منسٹری ہے، انسانوںپ کو ڈیل کرتے ہوئے غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔
واضح رہے کہ چھٹی انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ کانفرنس گیٹس فارما کراچی کے اڈیٹوریم میں منعقد ہو رہی ہے ،کانفرنس میں ڈریپ، قومی ادارہ صحت اسلام اباد سمیت سرکاری اور غیر سرکاری اسپتالوں اور یونیورسٹیوں کے حکام شریک ہیں۔