عمر اکمل نے ہیڈکوچ اور سابق کپتان پر بھی الزامات کی بوچھاڑ کردی
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
قومی ٹیم کے جارح مزاج مڈل آرڈر بیٹر عمر اکمل نے سابق کپتان یونس خان اور ہیڈکوچ وقار یونس پر الزامات کی بوجھاڑ کردی۔
نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹر عمر اکمل نے بتایا کہ سابق کپتان یونس خان نے انہیں ٹیسٹ کرکٹ میں تیز پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ اٹیکنگ شاٹس کھیلتے تھے تو یونس ان پر تنقید کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا تم نے ٹیسٹ میں ٹی20 کرکٹ کھیلنا چاہتے ہو؟ اب دیکھیں ٹیسٹ میچ محض 3، 4 روز میں ختم ہورہے ہیں۔
مزید پڑھیں: "کبھی نہیں چاہتا میرا بیٹا کرکٹر بنے"
عمر اکمل نے دعویٰ کیا کہ ہیڈکوچ وقار یونس کو میرے بھائی کامران اور عدنان نے بھی مسائل تھے، انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ تینوں ایک ساتھ قومی ٹیم کا حصہ کیوں ہیں؟۔
مزید پڑھیں: آسٹریلوی کرکٹر نے بالی ووڈ کے بعد سیاست میں انٹری دینے کا اعلان کردیا
جارح مزاج کرکٹر نے کہا کہ ہیڈکوچ وقار یونس کو اپنے کانوں سے کہتے ہوئے سنا کہ 'کیا ساری کرکٹ یہ بھائی کھیلیں گے؟' یہ کس قسم کا بیان ہے؟۔
مزید پڑھیں: تیسرا ٹی20؛ ہیڈکوچ نے ٹیم میں تبدیلیوں کا اشارہ دیدیا
انہوں نے وقار یونس پر الزام لگایا کہ وقار یونس اپنی کارکردگی کے بجائے غیر کرکٹ سرگرمیوں پر زیادہ فوکس رکھتے تھے جیسا کہ 'تم نے یہ چشمے کیوں پہن رکھے ہیں؟'۔
واضح رہے کہ عمر اکمل نے آخری بار اکتوبر 2019 میں سری لنکا کے خلاف لاہور میں پاکستان کیلئے کھیلا تھا۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عمر اکمل نے وقار یونس
پڑھیں:
عاقب جاوید فارغ، قومی ہیڈ کوچ کی تلاش شروع
لاہور(نیوز ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مسلسل شکستوں اور قومی ٹیم کی ناقص پرفارمنس کو دیکھتے ہوئے نئے ہیڈ کوچ کی تلاش کیلئے اشتہار دیدیا۔ بورڈ کی جانب سے اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عبوری ہیڈکوچ کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے عاقب جاوید کی سربراہی میں گرین شرٹس کو مسلسل شکستیں دیکھنا پڑیں۔
عاقب جاوید کے دور میں پاکستان ہوم گراؤنڈ پر ہونیوالی چیمپئینز ٹرافی کے پہلے راؤنڈ سے باہر ہوا جبکہ دورہ نیوزی لینڈ میں بدترین شکست ہوئی، 7 میچز میں قومی ٹیم محض ایک فتح حاصل کرسکی۔
قبل ازیں سابق ہیڈکوچ گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی جیسے تجربہ کار کوچز کو بھی گزشتہ سال محض چند ماہ ذمہ داریاں پوری کرکے جبری طور پر رخصت کردیے گئے تھے۔ ادھر بورڈ کی جانب سے ہیڈکوچ کیلئے جاری کردہ اشتہار میں لیول 3 کوچنگ سرٹیفیکٹ اور 10 سال کا تجربہ مانگا ہے۔
اطلاعات کے مطابق عبوری ذمہ داریاں سرانجام دینے والے عاقب جاوید اب ہیڈ کوچ بننے میں دلچسپی نہیں رکھتے تاہم ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر بننا چاہتے ہیں۔
ب فارم کیلئے نادرا دفتر جانے کا جھنجھٹ ختم