رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن کل ہوگا،کہاں کہاں دیکھا جائے گا؟ ماہرین نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
ویب ڈیسک: رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن کل ہوگا, پاکستان میں رواں سال کے پہلے چاند گرہن کو دیکھنا ممکن نہیں ہوگا.
محکمہ موسمیات کے مطابق چاند گرہن کا آغاز کل (بروز جمعۃ المبارک) 14 مارچ کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 57 منٹ پر ہوگا، چاند کو مکمل گرہن صبح 11 بج کر 58 منٹ پر لگے گا جبکہ گرہن کا اختتام 3 بجے ہوگا۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ چاند گرہن کے موقع پر آسمان سرخ رنگ کی روشنی سے منور ہو جائے گا، یہ لگ بھگ 3 سال بعد پہلا چاند گرہن ہوگا اور ایسا آخری بار 2022 میں ہوا تھا۔
ماڈل اور اداکارہ نادیہ حسین بھی ان لائن فراڈ کا نشانہ بن گئی
اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دن کے اوقات میں ہونے کی وجہ سے پاکستان میں رواں سال کے پہلے چاند گرہن کو دیکھنا ممکن نہیں ہوگا جبکہ یہ نظارہ شمالی اور جنوبی امریکا میں دیکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے کہ جب زمین گردش کرتے ہوئے سورج اور چاند کے درمیان آ جاتی ہے، تاہم سورج گرہن کی طرح چاند گرہن کو کھلی آنکھ سے دیکھنے سے بصارت کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
دوسری جانب رواں سال کا پہلا سورج گرہن 29 مارچ کو ہوگا جو کہ پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا۔
جائیداد کی لالچ میں بیٹے نے ماں کو قتل، بھائی شدید زخمی
.ذریعہ: City 42
پڑھیں:
تحریک طالبان پاکستان کا بیانیہ اسلامی تعلیمات، قانون، اخلاقیات سے متصادم قرار
ماہرین نے خبردار کیا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کا بیانیہ انتہا پسندی کا پردہ ہے جو پاکستان کی اسلامی اور جمہوری اساس کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ گروہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کیخلاف ہے بلکہ قانونی اور اخلاقی اصولوں کو بھی پامال کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں موجودہ نظام حکومت غیراسلامی ہے اور وہ تشدد کے ذریعے شریعت کا نفاذ کرکے معاشرے کو حقیقی اسلامی اصولوں پر استوار کریں گے۔ ماہرین کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی کا آئین اور جمہوریت کو مسترد کرتے ہوئے تشدد کو ’’جہاد‘‘ قرار دینا اسلامی تعلیمات کی غلط تشریح ہے، اسلامی تعلیمات بے جا بغاوت کو ’’فساد فی الارض‘‘ قرار دیتی ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے اپنے حاکم سے نافرمانی کی وہ مجھ سے جدا ہوا‘ (بخاری)۔ فقہا کے مطابق بغاوت تب تک جائز نہیں جب تک حکمران کھلم کھلا کفر نہ کرے جبکہ پاکستان کا آئین اسلامی اصولوں پر مبنی ہے، شریعت کا نفاذ جبر کے بجائے حکمت، عدل اور اجتماعی رضامندی سے ہونا چاہئے۔
قانونی طور پر پاکستان کا آئین اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیتا ہے اور شریعت کا نفاذ پارلیمنٹ کے ذریعے طے ہوتا ہے، ٹی ٹی پی کا غیر آئینی تشدد قانوناً غداری کے مترادف ہے۔ اخلاقی طور پر کالعدم ٹی ٹی پی کا تشدد، خود ساختہ تعزیرات اور عوامی امن کی تباہی شریعت کے مقاصد یعنی عدل، رحمت اور انسانی حقوق کے منافی ہے، قرآن کا فرمان ہے: ’’دین میں کوئی زبردستی نہیں‘‘ (البقرہ:256) اور جبراً شریعت مسلط کرنا اسلام کے رحمت للعالمینﷺ کے تصور کو مجروح کرتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کا بیانیہ انتہا پسندی کا پردہ ہے جو پاکستان کی اسلامی اور جمہوری اساس کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ گروہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کیخلاف ہے بلکہ قانونی اور اخلاقی اصولوں کو بھی پامال کر رہا ہے۔