چیمپئینز ٹرافی فائنل؛ دبئی کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام کا خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی کے فائنل کے دوران دبئی کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام کا خطرہ منڈلانے لگا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان آج دبئی میں کھیلے جانیوالے آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی کے فائنل کے باعث شدید ٹریفک جام کے باعث خلل کا خدشہ ہے۔
دبئی میں ٹریفک کے منتظم ادارے روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ دبئی اسپورٹس سٹی کے اطراف ٹریفک جام ہونے کا امکان ہے لہٰذا کرکٹ کے شائقین پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔
مزید پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی کس کی ؟ فیصلہ کن معرکہ آج ہو گا
چیمپئینز ٹرافی کا فائنل (آج) مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے شیڈول ہے جس کے باعث اہم شاہراہ شیخ محمد بن زاید روڈ اور حصہ اسٹریٹ پر ٹریفک کی سست روی کا امکان ہے۔
دبئی کے حکام کا کہنا ہے کہ ٹریفک خلل صبح 11 بجے سے دوپہر 2 بجے تک اور رات 8 بجے سے 11 بجے تک متوقع ہے۔
حکام نے شائقین کرکٹ کو اسپورٹس سٹی کا سفر کرنے کیلئے پیشگی منصوبہ بندی کی ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی: ویرات کوہلی پریکٹس سیشن کے دوران زخمی
دبئی حکام نے اعلان کیا ہے کہ شائقین کرکٹ کو اسٹیڈیم تک پہنچانے کیلئے دبئی میٹرو اور مفت بس سروسز کے ذریعے متبادل سفری سہولتیں دستیاب رہیں گی۔
حکام نے بتایا کہ جمیرا گلف اسٹیٹس میٹرو اسٹیشن سے کرکٹ فینز کو مفت بسیں دبئی کرکٹ اسٹیڈیم پہنچائیں گی۔ شائقین کرکٹ کو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: روہت اور کوہلی کی ریٹائرمنٹ کا معاملہ، بھارتی کھلاڑی کا بڑا بیان
دبئی اسپورٹس سٹی کے اطراف شائقین کرکٹ اور دیگر شہریوں کیلئے ٹریفک روانی برقرار رکھنے کیلئے ٹیمیں تعینات کی گئیں ہیں جو عوام کی رہنمائی کریں گی۔
عوام سے حکام نے اپیل کی ہے کہ دبئی اسپورٹس سٹی کے اطراف کا غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیمپئینز ٹرافی اسپورٹس سٹی شائقین کرکٹ ٹریفک جام حکام نے
پڑھیں:
پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخاب؛ فیصلہ ہوچکا، فائنل آرڈر پاس نہیں کریں گے، چیف الیکشن کمشنر
اسلام آباد:پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخاب کیس کی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے ہیں کہ الیکشن کمیشن فیصلہ کر چکا ہے، فائنل آرڈر پاس نہیں کرے گا۔
الیکشن کمیشن میں پاکستان تحریک انصاف انٹرا پارٹی انتخاب کیس کے معاملے کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے کی، جس میں پی ٹی آئی کے وکیل عذیر بھنڈاری، درخواست گزار اکبر ایس بابر سمیت دیگر فریقین پیش ہوئے۔
دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل عذیر بھنڈاری نے دلائل دیے۔و اضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے انٹرا پارٹی انتخاب کیس میں الیکشن کمیشن کو فیصلے سے روک رکھا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن فیصلہ کر چکا ہے، فائنل آرڈر پاس نہیں کرے گا۔ پی ٹی آئی نے جو دستاویزات جمع کرائی ہیں اس پر دلائل دیں۔ یہ جو آپ بتا رہے ہیں پی ٹی آئی کا وکیل پہلے بتا چکا ہے۔ آپ کے تمام اعتراضات مسترد کیے جاتے ہیں۔ بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کے چیئرمین کے طور پر نہیں بلکہ بطور وکیل پیش ہوئے۔
ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ کوئی بھی پارٹی انٹرا پارٹی انتخاب کرانے کی پابند ہوتی ہے۔ ڈی جی پولیٹیکل فنانس نے سماعت کے دوران بتایا کہ پی ٹی آئی 2021 میں انٹرا پارٹی انتخاب کرانے کی پابند تھی لیکن نہیں کروائے ۔
حکام کے مطابق تحریک انصاف اپنے آئین کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات کروانے کی پابند ہے۔ پی ٹی آئی کا نیا آئین 2019 میں منظور کیا گیا تھا۔ پارٹی آئین میں لکھا ہے کہ چیئرمین کا الیکشن سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ہو گا۔ پارٹی آئین کے مطابق پی ٹی آئی کی کور کمیٹی اور دیگر باڈیز موجود نہیں۔
حکام کا مزید کہنا تھا کہ نومبر 2023 میں پارٹی الیکشن کمشنر نے ترمیم شدہ آئین اور انٹرا پارٹی انتخابات نتائج واپس لے لیے تھے۔ اس وقت پی ٹی آئی کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ موجود نہیں۔ جنرل باڈی اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے پی ٹی آئی نے چیف آرگنائزر مقرر کیا۔ پی ٹی آئی آئین میں جنرل باڈی کا کوئی ذکر نہیں۔ قرارداد میں لکھا گیا کہ پارٹی کی نیشنل کونسل موجود نہیں۔
الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ کسی تنظیمی ڈھانچے کے بغیر صرف ایک قرارداد کے ذریعے انٹرا پارٹی انتخابات کروائے جا سکتے ہیں؟۔ ہمارے ریکارڈ کے مطابق پارٹی سیکرٹری جنرل اسد عمر ہیں لیکن اس عہدے پر اب کوئی اور ہے۔