کرد جنگجوؤں کے سربراہ کی جماعت کا 40 سال بعد ترکی سے جنگ بندی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
کرد جنگجوؤں کے سربراہ کی جماعت کا 40 سال بعد ترکی سے جنگ بندی کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 1 March, 2025 سب نیوز
کرد عسکریت پسند تنظیم کُردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی جانب سے ترکی کے ساتھ 40 سالہ مسلح جدوجہد کے بعد جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ اعلان ہفتے کے روز کیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرد رہنما عبداللہ اوجلان کی طرف سے لڑائی روکنے اور گروپ کو تحلیل کرنے کے مطالبے کے بعد پی کے کے کی جانب سے یہ پہلا ردعمل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اوجلان کی جانب سے رواں ہفتے تنظیم ختم کرنے اور ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی گئی تھی، جس کے بعد یہ پی کے کے کا پہلا باضابطہ ردعمل ہے۔
رپورٹ کے مطابق پی کے کے کی ایگزیکٹو کمیٹی نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ وہ آج سے شروع ہونے والی جنگ بندی کا اعلان کر رہے ہیں۔ یہ امن اور جمہوری معاشرے کے لیے عبداللہ اوجلان کی کال کی حمایت کرنا ہے۔
واضح رہے کہ 1984 میں پی کے کے نے کردوں کے لیے علیحدہ وطن کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد اور جنگ کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد سے اب تک 40 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو ئے تھے۔ کمیٹی نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے پوری طرح متفق ہیں اور اس پر عمل کریں گے۔
کرد رہنما عبداللہ اوجلان کو 1999 میں قید کیا گیا تھا۔ ان کی گرفتار کے بعد کئی بار اس تنازع کو ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں جس میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔2015 میں آخری امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کسی بھی قسم کی بات چیت بند ہو گئی تھی۔
تاہم، اکتوبر 2023 میں صدر رجب طیب اردگان کے ایک سخت گیر قوم پرست اتحادی نے اس شرط پر مفاہمت کی پیشکش کی کہ اوجلان تشدد کو ختم کریں۔
رجب طیب اردگان نے اس مفاہمت کی حمایت کی، لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت نے اپوزیشن پر دباؤ بڑھا دیا اور سینکڑوں سیاستدانوں، کارکنوں اور صحافیوں کو گرفتار کر لیا۔
عبداللہ اوجلان سے ان کی جزیرہ نما جیل میں کئی ملاقاتوں کے بعد، کردوں کی حامی ڈی ای ایم پارٹی نے جمعرات کو ان کا پیغام پہنچایا، جس میں پی کے کے سے ہتھیار ڈالنے اور تنظیم کو تحلیل کرنے کے لیے کانگریس بلانے کی اپیل کی گئی تھی۔
.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جنگ بندی کا اعلان عبداللہ اوجلان پی کے کے کے بعد کے لیے
پڑھیں:
امیر جماعت اسلامی نے 26 اپریل کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیا
اسلام آباد:جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے حکومت اور اپوزیشن سے فلسطین اور مسئلہ کشمیر پر متحد ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ 26 اپریل کو ملک بھر میں ہڑتال ہوگی اور 27 اپریل کو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد میں غزہ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے حکمران سوئے ہوئے ہیں، ہم نے کہا تھا امریکی سفارت خانے کی طرف مارچ کریں گے، حکمران طبقہ اسرائیل اور امریکا سے ڈرتا ہے اور حکمرانوں نے پورے اسلام آباد کو بند کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایک قاتل ملک ہے، اسرائیل کو امریکی پشت پناہی حاصل ہے، فلسطینی امت مسلمہ کی طرف دیکھ رہے ہیں، ہم 26 اپریل کو ہڑتال کرین گے اور 27 اپریل کوآئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ امریکا میں نوجوان اپنے حکمرانوں کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں، اسرائیل نے فلسطینوں کی زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے، فلسطینوں سے کلمے کا تعلق ہے۔
انہوں نے حکمرانوں کومتنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل سے تعلقات بڑھانے کا سوچنا بھی مت، اٹھو اور فلسطین کا مقدمہ لڑو، امریکا کو آج پیغام دیا، تم غلام ابن غلام ہو لیکن محمد کے غلاموں کو امریکا کی غلامی قبول نہیں ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں حماس کا دفتر کھولا جائے، حماس کے مجاہد قابض فوجیوں سے لڑ رہے ہیں اور امریکا نے حماس کو اقتدار میں نہیں آنے دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن کوئی کام نہیں کر رہی ہے، اپنے کام کروانا ہو تو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات بھی ہو جاتے ہیں، ذاتی مفاد کے لیے تھر پارکر میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کا اتحاد بھی ہو جاتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت اور اپوزیشن کو مخاطب کرکے کہا کہ تنخواہوں میں اضافہ کروا لیتے ہولیکن امریکا کی مذمت نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے کہتا ہوں کشمیر اور فلسطین کے معاملے پر ایک ہوجاؤ، فلسطین کا معاملہ انسانیت کا ہے، بچوں کوشہید کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کا تحفظ حماس نے کیا ہے لیکن اسرائیل اپنی قید میں موجود فلسطینوں کے ساتھ انسانیت سوز ظلم کر رہا ہے، مسلمانوں پر جہاد فرض ہے، ہم بائیکاٹ کریں گے، فلسطینوں کے لیے پسندیدہ کھانے پینے کی اشیا چھوڑ سکتے ہیں، سوشل میڈیا پر جہاد کریں گے کیونکہ حکمران جہاد کرنے نہیں دیتے۔
امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ بلوچ حقوق مانگ رہے اور پشتون امن مانگ رہے ہیں، سندھ کے لوگ کینال کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
دریں اثنا جماعت اسلامی کے ریڈزون کے اندر غزہ مارچ کے اعلان پر وفاقی پولیس نےفیض آباد، زیرو پوائنٹ اور ریڈزون سمیت ریڈزون کی طرف جانے والے تمام راستے سیل کردیےتھے لیکن پھر جماعت اسلامی اور حکومت کے مابین رابطہ کے بعد اسلام آباد ہائی وے پر آئی ایٹ پل کے قریب احتجاج مارچ اور جلسے کی اجازت دے دی گئی۔
احتجاج کے لیے جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکن بسوں، کاروں اور دیگر گاڑیوں پرقافلوں کی شکل میں وہاں پہنچے، اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری سیکیورٹی کے لیے تعینات رکھی گئی تھی، امیر جماعت اسلامی کے خطاب کے بعد غزہ مارچ کے مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔