عمران خان نے خط کے ذریعے اداروں اور قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے ، وہ خط کے ذریعے کوئی ریلیف نہیں مانگ رہے ، بانی اداروں کو کہہ رہے ہیں، آئین کی پاسداری کرو، تمام اداروں نے اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہے

26نومبر کو نہتے مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں، وزیراعظم شہباز شریف، وزیرداخلہ،خواجہ آصف،آئی جی پنجاب ذمہ دار ہے ، یہ فسطائیت کا دور ہے ، ملک کو بے آئین سرزمین بنا دیا گیا ہے ، پیکا ایکٹ کومسترد کرتے ہیں، نیوز کانفرنس

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ملک غلط حکمرانوں کے ہاتھ میں آ کر بحران میں گھرا ہوا ہے ۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنمائوں کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک تھا، غلط حکمرانوں کے ہاتھ آگیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سب کچھ آئین کے مطابق ہوگا، تب ہی پاکستان ترقی کی طرف آسکتا ہے ، دیر سے آئے درست آئے ، ہم سب ایک پلیٹ فارم پر آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک آئین کی بالادستی نہیں ہوگی ملک نہیں چل سکتا، 20 کروڑ روپے لے کر پارلیمنٹ میں بھیجا جاتا ہے ، آج پاکستان میں جو آدمی اپنا ضمیر بیچ دیتا ہے وہ وفادار ہے ۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جو سچ بولتا ہے ، جھوٹ بولنے سے منع کرتا ہے وہ غدار ہے ، پورا ملک جانتا ہے انتخابات پی ٹی آئی جیت چکی ہے ۔اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سلمان اکرم راجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم کسی کی خوشامد پر یقین نہیں رکھتے ، اس وقت عوام کنفیوژ ہیں۔ملک کی عوام کوجمہوریت اورحقوق چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ اقلیتوں کو حقوق حاصل ہیں، ہم سب کے حقوق یکساں ہیں، ہم سب نے اپنے حقوق کے لیے اکٹھے لڑنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام کو جمہوریت اورحقوق چاہئیں، عوام چاہتے ہیں ان کے ووٹ کی عزت ہو، جمہوریت کے علاوہ پاکستان کا اور کوئی مستقبل نہیں۔سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی نے کہاکہ عمران خان نے خط کے ذریعے اداروں اور قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے ، وہ خط کے ذریعے کوئی ریلیف نہیں مانگ رہے ، بانی اداروں کو کہہ رہے ہیں، آئین کی پاسداری کرو، تمام اداروں نے اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہے ۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ پارلیمان عوام کی نمائندہ نہیں ہے ، وفاق کی جانب سے صوبوں کو ان کے حقوق نہیں دیئے جا رہے ہیں۔اس موقع پر رہنما تحریک انصاف سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ 26نومبر کو نہتے مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں، وزیراعظم شہباز شریف، وزیرداخلہ،خواجہ آصف،آئی جی پنجاب ذمہ دار ہے ، یہ فسطائیت کا دور ہے ، ملک کو بے آئین سرزمین بنا دیا گیا ہے ، پیکا ایکٹ کومسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بانی نے بھی اسی لیے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے ، چیف جسٹس نے کہا عمران کے خط کوآئینی بینچ کو بھیج دیا ہے ۔چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے کہاکہ 26نومبرکی ہمیں سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں دی گئیں، یہ ڈھٹائی کیساتھ جھوٹ بولتے ہیں، پاکستان کے آئین کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے وہی خط چیف جسٹس آف پاکستان کوبھی بھیجا ہے ۔رہنما تحریک انصاف اسد قیصر نے کہا کہ ہماری حکومت میں ایک ڈرون حملہ نہیں ہوا تھا اور افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے ، خیبرپختونخوا کا مسئلہ امن وامان نہیں غلط فارن پالیسی کی وجہ سے ہے ، تحریک انصاف کی حکومت نے افغانستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دیا۔

.

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

سندھ کے تعلیمی اداروں میں کیا ہورہا ہے؟

سندھ کے تعلیمی اداروں میں اس وقت ابتر صورت حال ہے، محکمہ تعلیم کی اعلیٰ بیوروکریسی تعلیمی ترقی کے لیے منصوبہ بندی اختیارکرنے میں ناکام نظر آتی ہے، اگرچہ محکمہ تعلیم کے پاس وافر بجٹ ہے اور بین الاقوامی اداروں سے بھی سندھ کے محکمہ تعلیم کو امداد ملتی رہی ہے، لیکن حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ سندھ کے حکومت کی نگرانی میں چلنے والے تعلیمی اداروں میں نظم وضبط کا فقدان ہے۔

اساتذہ اپنی ذمے داریاں ادا نہیں کر رہے ہیں اور طلبہ بھی تعلیم کے بجائے زیادہ تر غیرنصابی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ ایک تشویش ناک صورتحال ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، سندھ کے دیہی علاقوں میں فقط سرکاری فائلوں پر تعلیمی ادارے موجود ہیں لیکن عملاً ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اس طرح زیادہ تر تعلیمی بجٹ خرد برد کیا جاتا ہے اور قومی خزانے کو لوٹا جاتا ہے۔

خود حکومت کے ذرائع تسلیم کرتے ہیں کہ محکمہ تعلیم میں ہر سطح پر بدعنوانیاں موجود ہیں لیکن ان بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں۔ سندھ ایک ایسا صوبہ ہے جس کی یونیورسٹیوں میں بھی اعلیٰ تعلیم میں تحقیق کے پہلو کو نظر اندازکیا جا رہا ہے اور تعلیمی معیار پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔

1973ء کے آئین کے آرٹیکل 25 اے کے تحت ملک میں 5 سے 16 سال کی عمرکے بچوں کو مفت لازمی تعلیم دینے کی حکومت پابند ہے۔ نومبر 2011میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ نے میٹرک تک مفت اور لازمی تعلیم کے بل کی اتفاق رائے سے منظوری دی، اس بل کے تحت بچوں کو نہ پڑھانے والے والدین کو پانچ ہزار روپے اور اسکول میں داخل نہ کرنے کی بنیاد پر پانچ سو روپے روزانہ کی بنیاد پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

کینیڈا کے ایک ادارے اور پاکستان کی ایک یونیورسٹی کے ٹیچر ایجوکیشن کے شعبے کے اشتراک عمل سے جو تحقیقی رپورٹ سندھ کے تعلیمی اداروں کی ابتر صورتحال کے متعلق منظر عام پر آئی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صوبے میں تعلیمی معیار زوال پذیر ہے اور اساتذہ بھی اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کررہے ہیں۔

اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق سندھ کے 70 فیصد پرائمری اسکولوں میں صرف 15 منٹ پڑھایا جاتا ہے۔ 20 فیصد اساتذہ 20 منٹ سے زائد اور 10 فیصد 5 منٹ سے بھی کم وقت تک پڑھاتے ہیں۔ اس تحقیق کے لیے سندھ کے بہت سے اضلاع کا انتخاب کیا گیا تھا۔

سروے کے نتائج مرتب کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان اضلاع کے طالب علموں کو تعلیم دینے پر اساتذہ کی توجہ نہیں ہے اور طلبہ بھی پڑھائی میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ اساتذہ تنخواہیں اور مراعات وصول کرتے ہیں مگر وہ تدریسی ذمے داریاں ادا کرنے سے گریزکرتے ہیں۔ اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق سندھ کے ان اضلاع میں بچوں کو عام طور پر تعلیمی اداروں میں نہیں بھیجا جاتا۔

اس طرح ان تعلیمی اداروں میں 46 فیصد طالب علم عموماً غیر حاضر رہتے ہیں اور تعلیم پر توجہ نہیں دیتے ہیں۔ رپورٹ مرتب کرنے والوں کی یہ بھی رائے ہے کہ اساتذہ کی تربیت کے لیے اصلاحات میں تسلسل نظر نہیں آرہا ہے۔ اس تحقیقی رپورٹ سے سندھ حکومت کے محکمہ تعلیم کی ناقص کارکردگی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ صوبے میں نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوسکے بلکہ اساتذہ بھی اپنی تدریسی ذمے داریاں یکسوئی اور سنجیدگی سے ادا کریں۔

آج کے پاکستانی معاشرے میں تعلیم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور مستقبل میں بھی تعلیم کا فروغ اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ حکومت کے تعلیم سے متعلق پالیسی ساز ادارے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں۔ تعلیمی معیارکو بڑھانے کے لیے اقدامات کے اعلان کیے جاتے ہیں۔

خوشنما الفاظ پر مشتمل تقاریرکی جاتی ہیں مگر عملاً سندھ میں تعلیمی معیارکی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے اور طالب علموں میں بھی تعلیم کے حصول کا جذبہ موجود نہیں ہے۔ جب اساتذہ کو اپنی تدریسی ذمے داریاں کا احساس نہیں ہے اور طالب علموں کو وہ مقررہ وقت تک پڑھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محکمہ تعلیم کا بجٹ منظورکرنے والے حکام خواب خرگوش میں کیوں مبتلا ہیں؟ اور کس لیے وہ نااہل اساتذہ کے خلاف کارروائی سے گریزکر رہے ہیں؟ حکومت اور اقوام متحدہ کے یونیسف ادارے کی طرف سے کرائے گئے مشترکہ سروے کے مطابق سندھ میں بچوں کو غیر انسانی حالات کا سامنا ہے، جوکہ بین الاقوامی معیار سے بہت کم ہے، اس غذائی قلت کی وجہ سے بچے مختلف ذہنی و جسمانی امراض میں پہلے ہی مبتلا ہیں۔ سندھ کے تعلیمی اداروں میں بچوں کے تعلیمی حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے جامع حکمت عملی طے کرنا بھی محکمہ تعلیم سندھ کی ذمے داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • علیمہ خانم اور بشریٰ بی بی پر شیر افضل مروت کی تنقید ناجائز ہے، عمر ایوب
  • کراچی حج آپریٹرز کی حج بحران کے معاملے پر آرمی چیف، وزیراعظم اور صدر سے مداخلت کی اپیل
  • ’باپ تو سپر مین ہوتا ہے‘، بچے کو گرمی سے بچانے کے لیے باپ نے سیٹ پر ہاتھ رکھ لیے، ویڈیو وائرل
  • اسرائیل کے اندر ایک تباہی اور قتل وغارت گری شروع ہونے کا خدشہ ہے . اپوزیشن لیڈر
  • ہمارے خلاف منصوبے بنتے ہیں مگر ہم کہتے ہیں آؤ ہم سے بات کرو، سلمان اکرم راجہ
  • آصف زرداری سندھ کا پانی بیچنے کے بعد اب مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں، عمر ایوب
  • ہمیں معیشت کی بہتری کا جھوٹا بیانیہ دیا گیا، سلمان اکرم راجہ
  • ہمارا آئین اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے: صدر آصف زرداری
  • سندھ کے تعلیمی اداروں میں کیا ہورہا ہے؟
  • بانی پی ٹی آئی سرخرو ہوں گے، کبھی بھی ان سے ڈیل نہیں کریں گے: زرتاج گل