خوبصورت سڑکیں دیکھنے لاہور ضرور آئیں‘ ٹریفک حادثات پر سندھ اور پنجاب حکومت آمنے سامنے
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ اورکراچی میں ہونے والے ٹریفک حادثات پر سندھ اور پنجاب حکومت آمنے سامنے آگئے۔ سیہون میں ہونے والے حادثے پر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے بیان پر ردعمل میں سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ عظمیٰ بخاری نے سیہون حادثے پر سیاست کرنے کی کوشش کی، پنجاب کی وزیر اطلاعات صاحبہ کو حقائق کا پتا نہیں، جس روڈ کی بات کی جارہی ہے وہ نیشنل ہائی وے ہے، یہ ن لیگ کی وفاقی حکومت کی نااہلی ہے جو یہ روڈ مکمل نہ کرسکی، پنجاب کی وزیر صاحبہ جب بیان دیتی ہیں تو سوچ لیں کہ جواب آئے گا۔ دوسری جانب عظمیٰ بخاری نے شرجیل میمن کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے، صوبائیت کارڈ کھیلنا آپ کی پرانی عادت ہے، سندھ میں تمام بڑے پروجیکٹ وفاق کی مدد سے چل رہے ہیں، مسلسل شعلہ انگیزیاں آپ اور آپ کے لوگ کررہے ہیں۔ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سندھ میں جانور بندھے اسکولوں اور ٹرانسپورٹ کا رونا سالوں سے لوگ رو رہے ہیں، اپنی حکومت کی 16 سال کی کارکردگی اور مریم نواز کی ایک سال کی کارکردگی کا جب دل چاہے معائنہ کرلیں، جو جماعت 16 سال سے کراچی کا کچرا نہیں اٹھا سکی وہ ہمیں لیکچر نہ دے، اگر آپ کو کبھی صفائی اور خوبصورت سڑکیں دیکھنے کا شوق ہو تو لاہور لازمی چکر لگائیں۔
.ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پانی معاملہ صرف سندھ نہیں پنجاب کا بھی مسئلہ ہے، نیئر بخاری
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین (پی پی پی پی) کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری نے کہا ہے کہ پانی کا معاملہ صرف سندھ نہیں پنجاب کا بھی مسئلہ ہے۔
اسلام آباد سے جاری بیان میں نیئر بخاری نے کہا کہ ن لیگ کی حکومت نے 6 نہروں کے معاملے کو درست طور پر پیش نہیں کیا ہے۔ وفاقی حکومت ابھی تک وضاحت نہیں دےسکی نہریں کہاں سےنکالیں گے، حکومت بتائے 6 کینالز کہاں سے نکالیں گے اور پانی کہاں سے دیں گے؟
پی پی پی پی کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ پانی کا معاملہ صرف سندھ نہیں پنجاب کابھی مسئلہ ہے، پیپلز پارٹی چاہتی ہے1991ء کے معاہدے پر من و عن عمل ہو۔
اُن کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کا واضح مؤقف ہے کہ پیپلز پارٹی عوام کو جوابدہ ہے، پی پی پی کے اعتراضات کوئی سیاسی دباؤ نہیں بلکہ حقائق پر مبنی ہیں۔
نیئر بخاری نے یہ بھی کہا کہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ بھی معترض ہیں، سوال تو یہ ہے کہ آئین میں موجود میکنزم پر کیوں عمل نہیں کیا جارہا؟
انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس جلد طلب کیا جائے، جس میں پانی، بجلی، معدنیات کے معاملات زیر بحث لائے جائیں۔