عمائدین لاہور کی شیعہ بیٹھیک، صدارت علامہ احمد اقبال رضوی نے کی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
مجلس وحدت مسلمین کی قیادت کی طرف سے مومنین کا شکریہ ادا کیا گیا۔ علامہ سید احمد اقبال رضوی نے ملکی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں مومنین کی ذمہ داریوں کے موضوع پر بہت خوبصورت اور مدلل گفتگو کی، جسے شرکاء بیٹھک نے خوب سراہا۔ شیعہ بیٹھک کے شرکاء کو مجلس وحدت مسلمین میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔ سوال و جواب اور تجاویز و آراء کا سیشن ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ وائس چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ سید احمد اقبال رضوی کی زیر صدرات صوبائی سیکرٹر یٹ مجلس وحدت مسلمین صوبہ پنجاب میں شیعہ بیٹھک کا انعقاد کیا گیا۔ بیٹھک کسی بھی علاقے میں آپس میں مومنین کا مل بیٹھ کر ’’ملکی وبین الاقوامی حالات کے تناظر میں ملت کے مسائل کا حل اور ملت کے مسائل میں مجلس وحدت کا کردار کیا ہے؟‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ موجودہ حالات میں مومنین کی ذمہ داری، گفت و شنید، سوال و جواب اور تجاویز و آراء پر مبنی بیٹھک کا مقصد مکتب آل محمدؑ کو مستقبل میں آنیوالے چیلنجز کے مقابلے کیلئے تیار کرنا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کی قیادت کی طرف سے مومنین کا شکریہ ادا کیا گیا۔ علامہ سید احمد اقبال رضوی نے ملکی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں مومنین کی ذمہ داریوں کے موضوع پر بہت خوبصورت اور مدلل گفتگو کی، جسے شرکاء بیٹھک نے خوب سراہا۔
شیعہ بیٹھک کے شرکاء کو مجلس وحدت مسلمین میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔ سوال و جواب اور تجاویز و آراء کا سیشن ہوا۔ علامہ احمد اقبال رضوی نے مجلس وحدت مسلمین بطور مذہبی سیاسی جماعت کا تعارف کروایا اور اب تک حاصل کردہ اہداف پر بھی روشنی ڈالی۔ وائس چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے خطاب کے علاوہ مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی، صوبائی صدر مجلس وحدت مسلمین پنجاب علامہ سید علی اکبر کاظمی، پاکستان کے معروف خطیب علامہ امجد علی عابدی اور ضلعی صدر مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع لاہور نے بھی خطاب کیا۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع لاہور کی میزبانی میں منعقد ہونیوالی شیعہ بیٹھک میں شہر کی معروف شخصیات نے شرکت کی۔ شیعہ بیٹھک کے اختتام پر ضلعی صدر مجلس وحدت مسلمین ضلع لاہور نجم عباس خان نے شرکاء بیٹھک کا شکریہ ادا کیا۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مجلس وحدت مسلمین پاکستان احمد اقبال رضوی نے شیعہ بیٹھک علامہ سید
پڑھیں:
لاہور بیٹھک، ن لیگ اور پی پی کا ساتھ چلنے پر اتفاق
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے لاہو کی بیٹھک میں ساتھ چلنے پر اتفاق کرلیا۔
گورنر ہاؤس لاہور میں ہونے والی ملاقات میں پانی کی تقسیم، زراعت، بلدیاتی انتخابات سمیت کئی معاملات پر تبادلہ خہال کیا۔
ن لیگ کی طرف سے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان اور پی پی پنجاب کے سربراہ حسن مرتضیٰ نے کوآرڈی نیشن کمیٹی اجلاس میں شرکت کی، اس دوران ملکی صورتحال کے پیش نظر مل جل کر چلنے پر اتفاق کیا۔
اس موقع پر ن لیگ نے پی پی قیادت کے پانی، گندم اور ترقیاتی فنڈز سے متعلق تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کروادی۔
حکومت پیپلز پارٹی کو ناراض کرنے پر تلی ہے، آغا رفیع اللّٰہپاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللّٰہ نے کہا ہے کہ دریائے سندھ پر 6 نہریں نکالنے سے سندھ کی موت واقع ہوجائے گی۔
اجلاس میں پنجاب میں دونوں جماعتوں کے درمیان پاور شیئرنگ پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پی پی کے حسن مرتضیٰ نے کہا کہ کینالز کے معاملے پر ہماری قیادتیں مل کر بیٹھیں گی، ایک موقف لے کر سامنے آئیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کیمرے کے سامنے کھڑے ہو کر کسی کو بھی ذمے دار قرار دینا قومی المیہ بن چکا ہے۔
پی پی کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ سوال یہ ہے کہ نئی نہریں نکالی جائیں گی تو ان کے لیے پانی کہاں سے آئے گا؟
وزیر آب پاشی سندھ جام خان شورو نے استفسار کیا ہے کہ جب سسٹم میں پانی ہی نہیں تو یہ کینالز کیسے بنارہے ہیں؟
اُن کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں پیش کیے گئے بلدیاتی بل پر تحفظات ہیں، ترقیاتی فنڈز ہمارا حق ہے، کینالز کا معاملہ تکنیکی ہے، ہم اپنے اپنے موقف کے ساتھ کھڑے ہیں، گفتگو کے بعد بہتر راستہ نکلے گا۔
اس موقع پر ن لیگ کے ملک محمد احمد خان بھی پی پی رہنما کے ہم آواز تھے، انہوں نے کہا کہ سندھ کا حق ہے کہ وہ اپنے پانی کی حفاظت کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ پانی کا ایشو سیاسی نہیں تکنیکی ہے، تکنیکی معاملات پر بات ہونی چاہیے، پانی پر سندھ کے تحفظات دور ہونے چاہئیں، اس میں کچھ غیر فطری نہیں ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ یہ بات درست نہیں کہ صدر آصف علی زرداری نے کینالز منصوبے کی منظوری دی۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ارسا میں پانی کی تقسیم کا فارمولا طے ہے، جس پر سب کا اتفاق ہے، بتایا گیا ہے کہ 10 ملین ایکڑ پانی کا گیپ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب کے درمیان پانی کے معاملات پر ڈیٹا کے مطابق بات کریں گے، مقامی سطح پر عوامی نمائندوں کو اختیار ملنا چاہیے، پیپلز پارٹی بھی چاہتی ہے پنجاب میں اچھی گورننس ہو۔
انکا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دو مختلف جماعتیں ہیں، پی پی ہماری اتحادی جماعت ہے، اس کی رائے مختلف ہوتی ہے تو اظہار جلسوں اور باہمی ملاقاتوں میں ہوتا ہے، اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مواقع ملیں۔
اس سے قبل صدر ن لیگ کی ہدایت پر رانا ثناء اللّٰہ نے وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن سے فون پر رابطہ کیا تھا۔
رانا ثناء اللّٰہ نے شرجیل میمن سے کہا کہ نہروں کے معاملے پر مذاکرات کو تیار ہیں، نواز شریف اور شہباز شریف نے نہروں پر سندھ کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اس پر صوبائی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نہروں پر وفاق سے مذاکرات کو تیار ہے، پی پی سندھ کےلیے 1991ء کے معاہدے کے تحت پانی کی منصفانہ تقسیم چاہتی ہے۔