متنازع ویڈیو کی وجہ سے سیلینا گومز لاکھوں فالوورز کھو بیٹھیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
معروف امریکی گلوکارہ اور اداکارہ سیلینا گومز حال ہی میں ایک تنازع میں گھر گئیں، جس کے نتیجے میں ان کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران 7 لاکھ سے زائد افراد نے گلوکارہ کو اَن فالو کر دیا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سیلینا گومز نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف ایک جذباتی ویڈیو شیئر کی۔
ویڈیو میں وہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے روتی ہوئی نظر آئیں تھیں۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایک آپریشن کے نتیجے میں 956 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا تجزیاتی پلیٹ فارم ’سوشل بلیڈ‘ کے مطابق، سیلینا گومز کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد گزشتہ 30 دنوں میں تقریباً 7 لاکھ 15 ہزار کم ہوگئی۔ اگرچہ مشہور شخصیات کے فالوورز میں اتار چڑھاؤ آنا عام بات ہے، لیکن اس مخصوص وقت میں ہونے والی کمی نے کئی سوالات کو جنم دیا۔
اپنی ویڈیو میں سیلینا گومز نے کہا، ’یہ سب دیکھ کر مجھے شدید افسوس ہو رہا ہے۔ میرے لوگ نشانے پر ہیں، معصوم بچے متاثر ہو رہے ہیں۔ میں کچھ کرنا چاہتی ہوں، لیکن نہیں جانتی کہ کیسے۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ ہر ممکن کوشش کروں گی‘۔
ویڈیو کے اختتام پر انہوں نے میکسیکو کے جھنڈے کا ایموجی بھی استعمال کیا، تاہم بعد میں انہوں نے یہ ویڈیو ڈیلیٹ کر دی۔ بعد ازاں، اس پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’شاید لوگوں کے لیے ہمدردی کا اظہار کرنا اب مناسب نہیں سمجھا جاتا۔‘
.ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نہریں متنازع معاملہ ہے، جو سنگین ہوچکا، شرجیل میمن
فائل فوٹوسندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ دریائے سندھ سے نہریں نکالنا متنازع معاملہ ہے، معاملہ سیریس ہوچکا ہے، وزیراعظم فوری طور پر یہ منصوبہ ختم کرنے کا اعلان کریں۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہروں کے معاملے پر سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کو کئی خط لکھے، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا، مگر اجلاس نہِیں بلایا گیا۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ اپنے ماہرین لانے کو تیار ہے، وفاق اپنے ماہرین لے آئے، ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب کے لیڈر بھی پوچھ رہے ہیں کہ چولستان نہر کے لیے پانی کہاں سے لائیں گے، سیلاب کے برسوں کے علاوہ ہر سال سندھ کو ربیع اور خریف کے موسم میں کم پانی کیوں ملا؟۔
سندھ کے سینئر وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں سن اکیانوے کے معاہدے پر اعتراضات ہیں، مگر پھر بھی ہمیں کم از کم اس معاہدے کے تحت ہی پانی دیا جائے۔