پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی جانب سے آرمی چیف جنرل سیّد عاصم منیر کو لکھے گئے خط کے مزید مندرجات سامنے آگئے۔

عمران خان کی جانب سے آرمی چیف کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا ہے، ہمارے فوجی پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہو لیکن افسوسناک امر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کی وجہ سے فوج اور عوام میں خلیج دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں سے فوج اور عوام میں دوریاں پیدا ہورہی ہیں،عمران خان کا آرمی چیف کو خط

’اس کی کچھ بنیادی وجوہات ہیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام اور فوج کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے اور فوج کی بدنامی کو کم کیا جا سکے۔‘

عمران خان نے اپنے خط میں لکھا کہ فوج اور عوام کے درمیان فاصلوں کی سب سے بڑی وجہ 2024 کے انتخابات میں تاریخی دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ کی سرعام چوری ہے جس نے عوام کے غصے کو ابھارا ہے۔ جس انداز میں ایجنسیاں پری پول دھاندلی اور نتائج کنٹرول کرنے کے لیے سیاسی انجینیئرنگ میں ملوث رہیں اس نے قوم کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ صرف 17 نشستیں جیتنے والی پارٹی کو اقتدار دے دیا گیا۔

بانی پی ٹی آئی نے خط میں لکھا کہ دوسری وجہ 26یں آئینی ترمیم ہے، جس طرح چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں اس کے خلاف پاکستانی عوام میں شدید نفرت پائی جارہی ہے۔

عمران خان نے لکھا کہ میرے مقدمات ’پاکٹ ججز‘ کے پاس لگانے کے لیے ناصر جاوید رانا نے فیصلے کو ملتوی کیا۔ عدالتوں میں جاری ’کورٹ پیکنگ‘ کا مقصد یہی ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات من پسند ججز کے پاس لگا کر اپنی مرضی کے فیصلے لیے جا سکیں۔ اس سب کا مقصد میرے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلے، انسانی حقوق کی پامالی اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی ہے تاکہ عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہ ہو۔

انہوں نے لکھا کہ تیسری وجہ ’پیکا‘ جیسا کالا قانون ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر پہلے ہی قبضہ کیا جا چکا ہے، اب پیکا کی صورت میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔ اس سب کی وجہ سے پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس بھی خطرے میں ہے۔ انٹرنیٹ میں خلل کی وجہ سے ہماری آئی ٹی انڈسٹری کو 1.

72 بلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوچکا ہے اور نوجوانوں کا کیریئر تباہ ہو رہا ہے۔

عمران خان نے لکھا کہ چوتھی اہم وجہ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت پر ریاستی دہشتگردی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ہمارے لیڈران اور کارکنان کی چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زیادہ چھاپے مارے گئے، 20 ہزار سے زیادہ کارکنوں اور سپورٹرز کی گرفتاریاں کی گئیں، انہیں اغوا کیا گیا، لوگوں کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا اور تحریک انصاف کو کچلنے کی غرض سے مسلسل انسانی حقوق کی پامالی کی جارہی ہے جس نے عوامی جذبات کو مجروح کیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ پانچویں بڑی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی بدولت معیشت کا برا حال ہے جس نے عوام کو مجبور کردیا ہے اور وہ پاکستان چھوڑ کر اپنے سرمائے سمیت تیزی سے بیرون ملک منتقل ہورہے ہیں۔ معاشی عدم استحکام اپنی انتہا پر ہے۔ گروتھ ریٹ صفر ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ کسی بھی ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدل کے بغیر سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوتی۔ جہاں دہشتگردی کا خوف ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سرمایہ کاری صرف تب آتی ہے جب ملک میں عوامی امنگوں کی ترجمان حکومت قائم ہو اس کے علاوہ سب کلیے بے کار ہیں۔

عمران خان نے خط میں لکھا کہ چھٹی بڑی وجہ تمام اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انتقام کی غرض سے تحریک انصاف کو کچلنے کا کام کرنا ہے۔ میجر، کرنل سطح کے افراد کی جانب سے عدالتی احکامات کی دھجیاں بکھیرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پوری فوج پر نزلہ گر رہا ہے۔ پرسوں اے ٹی سی کے جج نے عدالت میں میری اہلیہ کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا اس کے باوجود کے وہ آنا چاہتی تھیں کسی نادیدہ قوت نے اس کو سبوتاژ کیا۔

یہ بھی پڑھیں عمران خان کا آرمی چیف کو خط، اہم نکات سامنے آگئے

انہوں نے کہاکہ بحیثیت سابق وزیراعظم میرا کام اس قوم کی بہتری کے لیے ان مسائل کی نشاندہی ہے جس کی وجہ سے فوج مسلسل بدنامی کا شکار ہو رہی ہے۔ میری پالیسی پہلے دن سے ایک ہی ہے یعنی فوج بھی میری اور ملک بھی میرا۔ ملکی استحکام اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان کی خلیج کم ہو، اور اس بڑھتی خلیج کو کم کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے، اور وہ ہے فوج کا اپنی آئینی حدود میں واپس جانا، سیاست سے خود کو علیحدہ کرنا اور اپنی معین کردہ ذمہ داریاں پوری کرنا، اور یہ کام فوج کو خود کرنا ہوگا ورنہ یہی بڑھتی خلیج قومی سلامتی کی اصلاح میں فالٹ لائنز بن جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آرمی چیف خط بانی پی ٹی آئی عاصم منیر عمران خان مزید مندرجات وی نیوز

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا رمی چیف خط بانی پی ٹی ا ئی مزید مندرجات وی نیوز فوج اور عوام سرمایہ کاری رمی چیف کو ا رمی چیف کی وجہ سے ملک میں کے لیے ہے اور

پڑھیں:

عمران خان کی 9 مئی مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

ویب ڈیسک: عمران خان کی 9 مئی سے متعلق مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کرلی گئیں۔

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی 9 مئی کے 8 کیسز میں ضمانت کی درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرلیا گیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کا جسٹس شہباز رضوی اور جسٹس طارق سلیم شیخ پر مشتمل 2 رکنی بینچ 23 اپریل کو درخواست پر سماعت کرے گا ۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ

واضح رہے کہ مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں ہونے کے باعث عدالت نے گزشتہ سماعت پر کارروائی ملتوی کردی تھی ۔

عمران خان کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 9 مئی والے دن اسلام آباد میں نیب کی تحویل میں تھا۔ لاہور ہائیکورٹ 8 مقدمات میں ضمانت منظور کر کے رہائی کا حکم دے۔

Ansa Awais Content Writer

متعلقہ مضامین

  • چوہدری شفقت محمود کی تعیناتی نے فتح جنگ کو بدل کر رکھ دیا، عوامی اعتماد میں نمایاں اضافہ
  • غزہ کے لوگوں کیلئے احتجاج وقت کی اہم ضرورت ہے، جماعت اسلامی بلوچستان
  • علیمہ خان کو سیاست میں گھسیٹنا ناجائز ہے، عمر ایوب
  • سندھ کی عوام اپنے حقوق کا سودا کرنے والوں کو کسی قسم کے مذاکرات کا حق نہیں دیگی، سردار عبدالرحیم
  • پوپ فرانسس کی وفات پر عالمی رہنماؤں اور عوام کا خراج عقیدت
  • عوام کا ریلیف حکومت کے خزانے میں
  • ’ عمران خان 45دن میں رہا ہوسکتے ہیں، دو شرائط ہیں، پہلی شرط کہ بانی پی ٹی آئی خاموش رہیں اور دوسری ۔ ۔ ۔ ‘تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا
  • بیک ڈور رابطوں میں بڑی ڈیل، 45 روز میں عمران خان کی رہائی، بڑی خبر سامنے آگئی
  • شیر افضل مروت 2 سال پہلے کہاں تھا اور کون تھا؟
  • عمران خان کی 9 مئی مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر