زبانیں اپنی دھرتی، ثقافت و تہذیب سے پھلتی پھولتی اور پروان چڑھتی ہیں۔ زمیں زاد اپنی زبان کو ثروت مند بنا کر اسے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس پیش کاری میں کسی بھی زبان کاثقافتی مطالعہ، علاقائی پسماندگی اور قرب وجوار کے سلگتے مسائل بہت اہم اور کلیدی کردار ادا کرتے ہیں.دھرتی زاد شعراء اور ادیبوں نے ہمیشہ ظلم وجبر اور معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف بلا خوف و خطر علم بلند کیا، ان علمی و ادبی شخصیات میں ایک نام رحیم طلب کا ہے.

معروف شاعر ونثرنگار کا تعلق ڈسٹرکٹ بہاولپور کے علم وادب کی نرسری کا درجہ رکھنے والے شہر احمد پور شرقیہ سے ہے. علم وادب کا گہوارہ احمد پور شرقیہ قیام پاکستان سے قبل بھی ریاست بہاولپور کاصدر مقام ہونے کے باعث شعراء اور ادیبوں کا من پسند شہر تھا. معروف شاعر و نثر نگار رحیم طلب کا تعلق صحافتی شعبے ہے، وہ 20 سے زائد اخبارات ورسائل میں اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں. رحیم طلب ایک بہترین خطاط بھی ہیں، انہوں نے ادبی تخلیقات کا سفر کراچی سے شروع کیا. اس وقت ان کا شمار اردو اور سرائیکی کے نامور شعراء اور نثر نگاروں میں ہوتا ہے. رحیم طلب نے شاعری کو ایک نئی جہت بخشی، نظم نگاری میں تصویر دیکھ کر نظم لکھنے کا ایک نیا تجربہ کیا جو شاعری میں جدت و انقلابی قدم تھا، تصویر کو دیکھ کر نظم لکھنے کے تجربے کو ادبی حلقوں میں بے حد پذیرائی ملی. رحیم طلب کی شاعری اور نثرنگاری میں 9 کتابیں شائع ہوچکی ہیں، ان کی تصانیف میں ً ً الحمداللہ ً ً (بیاض سونی پتی کی سور? فاتحہ کی منظوم تفسیر)، ً ً سخن فرید ً ً، ً ًسونا چاندی ًً ً، ً ً زمین آسمان ً ً، ً ً آکھیا مبارک شاہ ً ً ً، پرسیپیشن آف گاڈ اینڈ یونیورس ً ً، ً ً فراہم دی ستلج بنک ً ً اور ایہو سچ اے شامل ہیں جبکہ 4 تصانیف مثنوی رسول اللہ، کونجاں دے گل کھانگے، بت شیشے دا دل شیشے دا اور ایک صدی کی کی سائنسی معلومات پر مبنی کتاب کنٹری آف سائنس (اردو، انگریزی) زیر طباعت ہیں. رحیم طلب نے اپنی شاعری اور نثر نگاری میں ملک و قوم کو درپیش مسائل کا احاطہ کیا.انہوں نے اپنے قرب و جوار میں عام آدمی کو پیش آنے والے مصائب ومشکلات کو اپنی تخلیقات کا موضوع بنایا.گزشتہ دنوں معروف شاعر و ادیب رحیم طلب سے روز نامہ جسارت کیلئے انٹرویو کیا جو نذر قارئین ہے.

معروف شاعر وادیب رحیم طلب نے ادبی تخلیقات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ شاعری کا آغاز میٹرک سے ہی کیا تھا، اہنی شاعری میں مزید نکھار لانے کیلئے میں نے اس وقت کے ممتاز شاعر دبیر الملک نقوی احمدپوری کی باقاعدہ شاگردی حاصل کی اور اپنی شاعری کیلئے ان سے باقاعدہ طور پر اصلاح لینا شروع کی. چند برسوں بعد میں نے نثر لکھنا بھی شروع کر دی، ابتداء میں زیادہ تر سرائیکی لکھا کرتا تھا بعد ازاں اردو میں بھی لکھنا شروع کیا. افسانے، ڈرامے انشائیہ، افسانچے لکھے. ایک سوال کے جواب میں رحیم طلب نے بتایا کہ ہمارے زمانے میں جو اصل میڈیا تھا، جس کی اپروچ ایزی تھی، وہ تھا ریڈیو۔ ریڈیو سے جو نغمے نشر ہوتے تھے وہ دل پر اثر کرتے تھے اور دوسرا یہ ہے کہ محرم کے ایام میں، میں مر ثیے اور نوحے سنا کرتا تھا، ہمارے محلے کی ایک ٹیم تھی جو مرثیے گروپ کی صورت میں گایا کرتی تھی تو میں ان سے بڑا متاثر تھا، میرے دل میں بھی ایک امنگ ابھری کہ میں بھی شاعری کروں، گیت لکھوں، تو اس طرح میں نے گیت لکھنے کی شروعات کی. اس طرح میں نے شاعری کا اغاز کیا. اس دوران کالج پہنچا تو تعلیمی اخراجات کے لئے مقامی اخبارات میں کام کیا۔ سعید خاور میرے کلاس فیلو تھے ہم نے سرائیکی رسالہ سیریز وسیب جاری کیا،پھر اردو ادب میں شاعری اور نثر نگاری میں اپنا ایک مقام بنایا. رحیم طلب نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ شاعری پر میرے گھر والوں کا کوئی خاص رد عمل نہیں تھا کیونکہ میرے والدین ان پڑھ تھے اور میرے بھائی صرف اردو لکھنا پڑھنا جانتے تھے جنھوں میری حوصلہ افزائی کی اور میں ادبی میدان میں مزید آگے بڑھتا چلا گیا. اس دوران اخبارات و رسائل میں باقاعدگی سے مضامین شائع ہونے لگے. نثر لکھنے کی ابتدا احمد پور شر قیہ سے شائع ہونے والے اردو رسالے آرزو سے کی جو دلشاد ندیم ہاشمی نکالا کرتے تھے، شمع رسالہ میں غزل کا ایک مقابلہ ہوا کرتا تھا تو طرحہ مصرعہ وہ دیتے تھے تو ان پر طبع ازمائی کرتے تھے اس طرح شاعری میں اپنی پہچان بنائی. ایک سوال کے جواب میں رحیم طلب نے کہا کہ اردو شاعری اور نثر کی تصانیف زیر طباعت ہیں جو انشاء اللہ جلد منظر عام پر آئیں گی.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایک سوال کے جواب میں شاعری اور نثر معروف شاعر

پڑھیں:

فلم ’جوش‘ میں کاجول اور عامر خان نے شاہ رخ کیساتھ کام کرنے سے کیوں منع کردیا تھا؟

کاجول اور شاہ رخ خان کی جوڑی فلمی دنیا کی مقبول ترین جوڑی ہے جس نے دل والے دلہنیا لے جائیں گے اور بازیگر جیسی ہٹ فلمیں دی ہیں۔

معروف فلم ساز منصور خان نے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2000 میں ریلیز ہونے والی فلم ’’جوش‘‘ میں شاہ رخ خان کی بہن کا کردار پہلے کاجول کو آفر کیا گیا تھا۔

’’قیامت سے قیامت تک‘‘ اور ’’جو جیتا وہی سکندر‘‘ جیسی کامیاب فلمیں بنانے والے منصور خان نے فلم جوش میں شاہ رخ خان کے ساتھ کام کرنے سے نہ صرف عامر خان بلکہ کاجول نے بھی انکار کردیا تھا۔

فلم ساز منصور خان نے بتایا کہ فلم ’’جوش‘‘ کے لیے شاہ رخ کی بہن کا کردار کاجول کو دیا گیا تھا لیکن ان کے انکار کے بعد یہ کردار ایشوریہ رائے کو دیا گیا.

فلم جوش میں شاہ رخ خان کے مدمقابل کردار راہول شرما کے لیے منصور خان نے عامر خان کا انتخاب کیا تھا لیکن جب انھیں پتا چلا کہ مرکزی کردار شاہ رخ کے پاس ہے تو وہ پیچھے ہٹ گئے تھے۔

فلم ساز منصور خان نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انھوں نے شاہ رخ کی جگہ سلمان خان کو بھی میکس کے کردار کی پیشکش کی تھی لیکن اُن دنوں سلمان خان ایشوریہ رائے کو پسند کرتے تھے اور اس فلم میں انھیں اپنی بہن کا کردار ادا کرتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔

 

 

TagsShowbiz News Urdu

متعلقہ مضامین

  • کفار کے ساتھ نبی اکرم ﷺکا معاشرتی رویہ
  • ینگ انجینئرز نیشنل فورم کے قیام کی منظوری دے دی گئی
  • شاعر مشرق، مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی  87 ویں برسی منائی گئی 
  • فلم ’جوش‘ میں کاجول اور عامر خان نے شاہ رخ کیساتھ کام کرنے سے کیوں منع کردیا تھا؟
  • بلوچستان کا بحران اور نواز شریف
  • عازمین حج کو ویکسین کی  فراہمی آج سے شروع ہو گی 
  • ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی 87 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔
  • شاعر مشرق، مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی آج 87 ویں برسی
  • گلوکار حسین رحیم نے خاموشی سے شادی کرلی
  • علامہ اقبال کی لاہور میں ہاسٹل لائف، رہائش گاہیں اور شاعری