Express News:
2025-04-22@14:24:51 GMT

کورنگی سے دو کمسن بھائی لاپتا، نامعلوم شخص ساتھ لے گیا

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT

کراچی:

کورنگی سیکٹر اڑتالیس میں دو کمسن بھائی لاپتا ہوگئے، فلیٹ کے احاطے سے نامعلوم شخص بچوں کو ساتھ لے گیا، پولیس نے ذاتی دشمنی کا معاملہ قرار دے دیا۔

ایکسپریس کے مطابق زمان ٹاؤن تھانے کے علاقے کورنگی سیکٹر اڑتالیس آٹھ  البرک ٹاور کے قریب سے اچانک  2 کمسن بھائی لاپتا ہوگئے، زمان ٹاؤں پولیس نے لاپتا ہونے والے دو کمسن بھائیوں 4 سالہ زین علی اور7 سالہ اعظم کے اغوا کا مقدمہ  درج کرلیا۔

مقدمہ مغوی بھائیوں کی والدہ کائنات دختر جاوید کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، مدعیہ خاتون کائنات نے پولیس کو بتایا کہ 2013ء میں اس کی شادی وسیم عباس سے کے پی کے ہری پور ہزارہ میں ہوئی تھی جس سے ان کے دو بچے ہیں ہم دونوں میاں بیوی میں اکثر لڑائی جھگڑا رہتا تھا اورچارسال قبل میرے سسر محمد نصیر مجھے کراچی چھوڑ کر چلے گئے تھے اورمیرے بچے ہری پور ہزارمیں ہی رکھ لیے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ 28 ستمبر 2024ء کو میں اپنے والد کے ہمراہ ہری پور ہزارہ اپنے بچوں سے ملنے گئی مگر مجھے میرے سسر نے بچوں سے ملنے نہیں دیا جس پرمیں نے ہری پور کورٹ میں بچوں کی حوالگی کے لیے کیس دائرکیا، عدالت نے 7 نومبر 2024ء کو میرے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے بچے میرے حوالے کردیئے اور میں بچوں کو لے کر کراچی آ گئی۔

والدہ نے بتایا کہ 30 جنوری کی رات ساڑھے 8 بجے کے قریب میرے دونوں بچے اپنے دوست شایان کے ساتھ فلیٹ کے نیچے پورشن میں کھیلنے کے لیے گئے اورساڑھے 10 بجے بجلی آنے کے بعد فلیٹ کے واچ مین کو فون کیا میرے بچے شایان کے ساتھ کھیلنے گئے تھے انہیں تلاش کرو 5 سے 7 منٹ کے بعد واچ مین نے مجھے واپس فون کیا اور بتایا کہ آپ کے بچے نیچے موجود نہیں ہیں لیکن ان کا دوست شایان موجود ہے۔

والدہ کے مطابق بچے شایان نے بتایا کہ ایک شخص جس نے سن گلاسز لگائے ہوئے تھے چہرے پر ہلکی داڑھی تھی اس نے عظیم اور زین کا نام پکارا اور اپنے پاس بلایا اور اپنے ساتھ لے کر چلا گیا لہذا اس نامعلوم شخص کے خلاف میرے بچوں کے اغوا کا مقدمہ درج کیا جائے۔

ایس ایچ او زمان ٹاؤن عتیق الرحمن کا کہنا ہے کہ پولیس نے مقدمے کے اندراج کے بعد بچوں کی تلاش شروع کردی ہے تاہم بچوں کے اغوا کا مقدمہ میاں بیوی کے درمیان تنازع کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے پولیس اپنی تفتیش کررہی ہے۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بتایا کہ ہری پور

پڑھیں:

پاکستان میں پولیو کے خلاف سال کی دوسری قومی مہم کا آغاز

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 21 اپریل 2025ء) پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق پولیو کی بیماری کے خلاف پاکستان میں سال 2025ء کی اس دوسری ملک گیر مہم کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں بچوں کو متاثر کرنے والی اس بیماری کے نئے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پوری دنیا میں اس وقت صرف پاکستان اور اس کا ہمسایہ ملک افغانستان ہی دو ایسی ریاستیں ہیں، جہاں اس بیماری کا تاحال مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔

پولیو کی بیماری ممکنہ طور پر بچوں کے لیے مہلک بھی ثابت ہو سکتی ہے اور اپنے کم عمر متاثرہ مریضوں کو یہ کلی یا جزوی طور پر جسمانی معذوری کا شکار تو بنا ہی دیتی ہے۔ جنوری سے اب تک پاکستان میں پولیو کے چھ نئے کیسز

پاکستان میں اس سال جنوری سے لے کر اب تک پولیو کے چھ نئے کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔

(جاری ہے)

لیکن اس میں بھی کچھ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ فروری کے مہینے سے اب تک اس مرض کا پاکستان میں کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔

اس سے قبل گزشتہ برس پاکستان میں، جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے، پولیو کے نئے کیسز میں واضح اضافہ دیکھا گیا تھا اور ان کی تعداد 74 رہی تھی۔

حیران کن بات یہ بھی ہے کہ 2024ء میں پولیو کے 74 نئے کیسز سے قبل پاکستان میں اس سے پہلے 2021ء میں اس بیماری کا صرف ایک نیا واقعہ سامنے آیا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ماضی قریب میں پولیو کے خلاف جو جنگ بظاہر حتمی کامیابی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی تھی، وہ 2024ء میں واضح طور پر ناکام ہوتی دکھائی دی۔

اسی لیے اب حکومت نے ملک میں اس سال کی دوسری قومی ویکسینیشن مہم کا آغا زکیا ہے۔ پاکستانی وزیر صحت کی طرف سے والدین سے اپیل

پاکستان وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے انسداد پولیو کی اس نئی مہم کے آغاز پر ملک بھر میں چھوٹے بچوں کے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ رواں ہفتے اپنے اپنے رہائشی علاقوں میں گھر گھر جانے والے طبی عملے سے تعاون کریں اور اپنے بچوں کے پولیو کے خلاف حفاظتی قطرے پلوائیں، تاکہ ملک سے اس بیماری کا خاتمہ کیا جا سکے۔

پاکستان میں ماضی میں مختلف عسکریت پسند گروہوں سے تعلق رکھنے والے مسلح حملہ آور خاص طور پر ملکی صوبوں بلوچستان اور خیبر پختوانخوا میں بچوں کو پولیو ویکسین پلانے والی طبی ٹیموں کے ارکان اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

ان حملوں کی وجہ عام طور پر مغرب مخالف عناصر کی طرف سے پھیلائی جانے والی یہ دانستہ غلط معلومات بنتی ہیں کہ عام بچوں کو یہ ویکیسن مبینہ طور پر اس لیے پلائی جاتی ہے کہ وہ بالغ ہو کر افزائش نسل کے قابل نہ رہیں اور یہ بھی کہ یہ عمل مبینہ طور پر مسلم بچوں کے خلاف ایک نام نہاد مغربی سازش کا حصہ ہے۔

انسداد پولیو مہم کے کارکنوں کا اغوا

پاکستان میں انہی بےبنیاد افواہوں اور غلط معلومات کے تناظر میں 1990 کی دہائی سے لے کر اب تک پولیو ویکسینیشن ٹیموں پر ملک کے مختلف حصوں میں کیے جانے والے مسلح حملوں میں 200 سے زائد اینٹی پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت کرنے والے پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان میں سے تقریباﹰ 150 پولیو ورکر اور سکیورٹی اہلکار 2012ء کے بعد مارے گئے ہیں۔

ابھی گزشتہ ہفتے ہی پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا میں مسلح عسکریت پسندوں نے کم از کم دو ایسے اینٹی پولیو ورکرز کو اغوا بھی کر لیا تھا، جن کا تعلق عالمی ادارہ صحت سے تھا۔ ان حملہ آوروں نے ڈیرہ اسماعیل خان نامی شہر میں ان کارکنوں کی گاڑی پر فائرنگ کر کے پہلے اسے رکنے پر مجبور کر دیا تھا اور پھر اس میں سوار دو کارکنوں کو اغوا کر کے یہ عسکریت پسند اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

یہ دونوں ہیلتھ ورکرز پاکستانی شہری بتائے گئے تھے، جو آج پیر سے شروع ہونے والی ویکسینیشن مہم کے لیے فیلڈ سٹاف کو تربیت دینے کے بعد واپس اپنے دفتر جا رہے تھے۔

ان دونوں مغویوں کو تاحال برآمد نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ انہیں اغوا کس مسلح گروہ نے کیا ہے۔

ادارت: امتیاز احمد

متعلقہ مضامین

  • اقبالؒ__ کیا ہم بھول جائیں گے؟
  • کراچی سے راولپنڈی جانے والی ٹرین کے واش روم سے پھندا لگی لاش برآمد
  • قومی انسداد پولیو مہم شروع، ساڑھے 4 کروڑ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف
  • پاکستان میں پولیو کے خلاف سال کی دوسری قومی مہم کا آغاز
  • خوراک کیلئے ترستی فلسطینی خاتون بچوں کو کھچوے پکا کر کھلانے پر مجبور
  • جنوبی وزیرستان: نامعلوم دہشت گردوں کا پولیس پارٹی پر حملہ ناکام، دہشت گرد ہلاک
  • جنوبی وزیرستان: نامعلوم دہشت گردوں کا پولیس پارٹی پر حملہ ناکام، دہشت گرد ہلاک،
  • اسلام آباد: یونیورسٹی ہاسٹل میں 22 سالہ طالبہ قتل
  • کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شہری جاں بحق، پولیس نے واقعے کو ذاتی دشمنی قرار دے دیا
  • بھارت؛ 22 سالہ دولھے کے ساتھ دھوکا، دلہن کی والدہ سے شادی کروادی گئی