خیبر پختونخوا: رواں ماہ 10 دہشتگرد ہلاک، 72 گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT
---فائل فوٹو
محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) خیبر پختون خوا کا کہنا ہے کہ رواں سال کے 1 ماہ میں صوبے میں 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 72 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی خیبر پختون خوا نے 2023ء سے اب تک دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2023ء میں دہشت گردوں کے خلاف 2 ہزار 531 آپریشن ہوئے، جن میں 300 دہشت گرد ہلاک ہوئے، 917 کو گرفتار کیا گیا جبکہ 44 کے سروں کی قیمت مقرر کی گئی۔
محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کی جانب سے خیبر پختون خوا میں سال 2024ء کے دوران دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔
2024ء میں شدت پسندوں کے خلاف 3 ہزار 238 آپریشن کیےگئے، اس دوران دہشت گردوں کے قبضے سے 12 کلو سونا بھی برآمد ہوا۔
رواں سال 2025ء کے اس پہلے مہینے جنوری میں 179 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جا چکے ہیں، جن میں 10 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ 72 کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
رواں ماہ لکی مروت میں کالعدم تنظیم کے 3 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں اضلاع کی سطح پر سینٹرل انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹرز قائم کیے گئے ہیں، سی ٹی ڈی کو جدید ہتھیاروں، آلات اور ڈرونز کیمرے فراہم کیے گئے ہیں، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سی ٹی ڈی ریجنز کی تعداد 7 سےبڑھا کر 15 کر دی گئی ہے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کو گرفتار کیا دہشت گردوں کے سی ٹی ڈی کے خلاف
پڑھیں:
سیکیورٹی فوسرز کے خیبرپختونخواہ میں 2 مختلف آپریشنز، کارروائی کے دوران 6 خوارج ہلاک
خیبرپختونخوا میں 2 مختلف آپریشنز میں سیکیورٹی فورسز نے 6 خوارج جہنم واصل کر دئے۔
سکیورٹی فورسز کے صوبہ خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ آپرئشنز کے نتیجے میں انتہائی مطلوب دہشت گرد سرغنہ ذبیح اللہ عرف ذاکران سمیت 6 خوارج مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، آپریشن کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 5 خوارج مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کامیابی سے خوارج کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جنوبی وزیرستان میں ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی میں خارجی سرغنہ ذبیح اللہ عرف ذاکران مارا گیا، ذبیع اللہ سیکیورٹی فورسز کے خلاف متعدد دہشت گردی کی کارروائیوں سمیت بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھا۔
علاقے میں پائے جانے والے کسی ممکنہ خارجی کو ختم کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن بھی کیا گیا، سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔