پنجاب کے سرکاری تعلیمی اداروں میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
پنجاب کے سرکاری تعلیمی اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔
وزیر تعلیم پنجاب اور سیکریٹری ہائر ایجوکیشن نے لندن میں گوگل کے عہدیداروں سے ملاقات کی، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب کے سرکاری اسکولوں کے کلاس رومز میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز متعارف کرائے جائیں گے۔
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا کہ گوگل کے تعاون سے پنجاب میں 25 ہزار نئے کورسز شروع کیے جائیں گے، اور پنجاب میں گوگل کا ایک وسیع اور جدید مرکز بھی قائم کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق 2 لاکھ طلبا کو کوڈنگ اور گوگل کی اے آئی ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 50 ہزار سرکاری اساتذہ کو گوگل ایجوکیشن کی ٹریننگ دی جائے گی۔
اس کے علاوہ، سرکاری تعلیمی اداروں میں اسمارٹ لیبز قائم کی جائیں گی اور اسکولز کو گوگل کلاوڈ پلیٹ فارم کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
.ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سپیکر کے پی اسمبلی کو کرپشن الزامات میں کلین چٹ دینے پر پی ٹی آئی احتساب کمیٹی میں اختلافات
پشاور:سپیکرخیبرپختونخوا اسمبلی بابرسلیم سواتی کو اسمبلی میں بھرتیوں سے متعلق بدعنوانی کے الزامات میں کلین چٹ دینے پر پی ٹی آئی کی احتساب کمیٹی میں اختلافات سامنےآگئے۔
نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کی اندرونی احتساب کمیٹی کے تینوں ارکان کا مذکورہ رپورٹ پر آپس میں عدم اتفاق ہے، مذکورہ رپورٹ کمیٹی نے نہیں بلکہ کمیٹی کے ایک رکن نے جاری کی ہے۔
ایسے معاملات میں اندرونی رپورٹس پبلک نہیں کی جاتیں بلکہ پارٹی سربراہ کو بھجوائی جاتی ہیں، مذکورہ رپورٹ کمیٹی نے پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کو ارسال کرنی تھی جسے قبل ازوقت پبلک کردیا گیا۔
رکن احتساب کمیٹی نے کہا کہ مذکورہ رپورٹ پراس وقت کوئی کمنٹس نہیں دے سکتے، اس سلسلے میں بانی چیئرمین سے مشاورت کرنے کے بعد ہی بات کی جائے گی۔
کمیٹی رکن کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹی بانی چیئرمین نے تشکیل دی، ،ہر معاملے کی رپورٹ بھی انھیں ہی پیش کی جائے گی، رپورٹ وہی ہوسکتی ہے جس پر تینوں ارکان کے دستخط ہوں ، ایک رکن کی رپورٹ ، رپورٹ نہیں ان کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے۔