نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا 26 نومبر واقعے کو مدنظر رکھ کر پوری تیاری کے ساتھ جائیں گے، اگر اسلام آباد نہ گئے تو گلگت اور خیبرپختونخواہ کی تمام قومی شاہراہیں بند کر دیں گے، پہلی قیادت کی طرح اب کسی سے کوئی رابطہ یا بات نہیں کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ قومی اسمبلی میں چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور رہنماء پی ٹی آئی جنید اکبر نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اسلام آباد ڈی چوک کی طرف احتجاجی مارچ کا آپشن موجود ہے، 26 نومبر واقعے کو مدنظر رکھ کر پوری تیاری کے ساتھ جائیں گے، اگر اسلام آباد نہ گئے تو گلگت اور خیبرپختونخواہ کی تمام قومی شاہراہیں بند کر دیں گے، پہلی قیادت کی طرح اب کسی سے کوئی رابطہ یا بات نہیں کریں گے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں کہ علی امین سے عمران خان ناراض ہیں، اگر ناراض ہوتے تو وزارت اعلیٰ سے ہٹا دیتے، صوبائی عہدے کی نسبت وزیر اعلیٰ شپ بڑا عہدہ ہے، علی امین نے پارٹی میں سب سے زیادہ محنت کی۔   ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو اب لگ رہا ہے کہ ہم دوبارہ احتجاج میں جا رہے ہیں، کیونکہ مذاکرات میں حکومت کا رویہ دیکھ لیا، حامد رضا کے گھر میں چھاپے مارے گئے، مجھے لگ رہا ہے کہ ہماری مذاکرات کی خواہش کو کمزوری سمجھا گیا۔ عمران خان کا ڈیڑھ مہینہ پہلے بھی مجھے پیغام ملا کہ آپ کو صوبائی صدر بنانا ہے، میں پریشان ہوا کہ اتنی بڑا ذمہ داری کیسے اٹھاؤں گا، میں خان کو اپنی مجبوریاں بھی بتائیں، لیکن عمران خان نے کہا کہ آپ کو صدر بنانا ہے۔ 1996ء میں سیاست کا آغاز گاؤں کی صدارت سے کیا تھا، پھر حلقے تک رہا۔ عمران خان نے میری قربانیوں کو دیکھ کر صوبائی صدر بنایا۔ 9 مئی کے بعد مجھ پر ایف آئی آرز کاٹی گئیں، ایف آئی آر بھی وہاں کاٹتے جہاں سردی زیادہ ہو۔ سونے بھی نہیں دیتے، ہر تھوڑی دیر بعد تصویر بناتے،    جنید اکبر کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے بعد احتجاج میں سب سے زیادہ مالاکنڈ کے کارکنان گئے۔ 8 فروری کو صوابی جلسے کیلئے زیادہ جذبے سے نکلیں گے، ارکان اسمبلی کو اعتماد میں لوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اندازہ تھا حکومت مذاکرات میں آگے نہیں بڑھ سکتی، کیونکہ فیصلے کسی اور نے کرنے ہیں، ہم کوشش کر رہے تھے کہ ڈائیلاگ کامیاب ہوں گے، لیکن آثار نظر نہیں آرہے۔ 8 فروری کے بعد تنظیم سازی کریں گے، 9 مئی کے بعد مزاحمت کرنے والوں کو آگے لائیں گے، مرکزی اور صوبائی ہومیو پیتھک قیادت سائیڈ پر ہو جائے گی، حالات ایسے لگ رہے کہ آئندہ دنوں حکومت اور اپوزیشن میں کشیدگی بڑھے گی۔ پہلے احتجاج کیلئے نکلتے تھے تو قیادت کے رابطے ہوتے تھے، اب حکومت سے کوئی رابطہ یا بات نہیں کریں گے۔   انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس احتجاج کے تین آپریشن موجود ہیں، ہمارے پاس اسلام آباد ڈی چوک کی طرف احتجاجی مارچ کا آپشن موجود ہے، 26 نومبر واقعے کو مدنظر رکھ کر اسلام آباد پوری تیاری کے ساتھ جائیں گے، اگر اسلام آباد کی طرف نہ بھی گئے تو ہم گلگت اور خیبرپختونخواہ کے تمام راستے بند کر سکتے ہیں، عمران خان نے پیغام دیا کہ ہم حکومت اور وزیرآعظم بننے سے بہت آگے سوچنا ہے، یہ دل سے نکال دیں کہ ہم نے پارلیمنٹ میں آنا ہے یا دوبارہ ایم این اے بننا ہے، یہ بہت چھوٹی چیزیں ہیں، اب ریاست کو فیصلہ کرنا ہے، ہمارے ورکرز پر ایف آئی آرز کاٹی گئیں، تشدد سے ہماری خواتین کو بھی نہیں توڑا جا سکا۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلام آباد ہمارے پاس بات نہیں کریں گے کے بعد کی طرف کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

جماعت اسلامی کا ریڈزون کے بجائے اسلام آباد ایکسپریس وے پر مظاہرے کا اعلان

جماعت اسلامی ( جے آئی ) اور انتظامیہ کے مابین معاملات طے پا گئے، ’فلسطین یکجہتی مارچ‘ کے تحت اسلام آباد کے ریڈ زون کی طرف مارچ کے بجائے اسلام آباد ایکسپریس وے پر مظاہرہ کیا جائے گا۔

ڈان نیوز کے مطابق ترجمان جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ ’فلسطین یکجہتی مارچ‘ کے تحت اسلام آباد کے ریڈ زون کی طرف مارچ نہیں کیا جائے گا، اس کے بجائے اب اسلام آباد ایکسپریس وے پر مظاہرہ کیا جائے گا۔

اس سے قبل، وفاقی حکومت نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ہائی سیکیورٹی والے ریڈ زون کی طرف جانے والے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کر دیا تھا، تاہم، مارگلہ گیٹ کو عوام کے لیے کھلا رکھا گیا تھا لیکن وہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی، کیونکہ جماعت اسلامی کے حامی غزہ میں اسرائیل کی خونی فوجی کارروائی کے درمیان فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دارالحکومت کی طرف بڑھ رہے تھے۔

جماعت اسلامی اسلام آباد کے سیکرٹری اطلاعات عامر بلوچ نے آج کہا کہ پارٹی اسلام آباد ایکسپریس وے پر مارچ کرے گی کیونکہ ’ جے آئی اور اسلام آباد انتظامیہ کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں۔’

عامر بلوچ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ جماعت اسلامی نے ریڈ زون کی طرف مارچ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب اسلام آباد ایکسپریس وے پر غزہ کے لیے مارچ کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ہم زیرو پوائنٹ کے قریب مارچ کریں گے اور ایچ 8 اوور ہیڈ برج پر ایک اسٹیج بنایا جائے گا، جبکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان سمیت ہمارے مرکزی قائدین ریلی سے خطاب کریں گے۔

جماعتِ اسلامی نے اصل میں یہ احتجاج اتوار کو سہ پہر 3 بجے ریڈ زون کے اندر امریکی سفارت خانے کے باہر کرنے کا شیڈول جاری کیا تھا۔، تاہم، لاک ڈاؤن کے بعد، جے آئی کے جنرل سیکرٹری امیر العظیم نے ایک ویڈیو پیغام میں احتجاج کے لیے ایک متبادل مقام کا اعلان کیا، انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ فیض آباد کے قریب سری نگر ہائی وے کے خارجی راستے پر واقع زیرو پوائنٹ کی طرف روانہ ہوں۔

سڑکوں کی بندش اور شدید بارش کے باعث، تقریباً 3:45 بجے تک مظاہرین کی صرف ایک چھوٹی سی تعداد زیرو پوائنٹ پر پہنچی تھی، انہوں نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نعرے لگانا شروع کر دیے۔ مظاہرین کا بڑا دستہ ابھی تک احتجاج کے نئے مقام پر نہیں پہنچا۔

گزشتہ ہفتے، کراچی کے ہزاروں شہریوں نے دو مذہبی سیاسی جماعتوں کے زیر اہتمام غزہ کے ساتھ یکجہتی مارچ میں شہر کی اہم سڑکوں پر جمع ہو کر غزہ میں اسرائیل کی خونی فوجی کارروائی کے دوران فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔

جماعت اسلامی کی پریس ریلیز کے مطابق، پارٹی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پر زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس مظاہرے میں شرکت کی، جن میں وکلاء، اساتذہ، تاجروں، ڈاکٹروں اور دیگر پیشہ ور افراد کی نمائندہ تنظیمیں بھی شامل تھیں۔

وفاقی پولیس کی جانب سے ٹریفک پلان جاری
اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق،’ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر، ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے، بشمول سرینا ( ہوٹل) ، نادرا، میریٹ اور ایکسپریس چوک’ کو مزید اطلاع تک عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

ایڈوائزری میں سیکرٹریٹ اور ریڈ زون جانے والے شہریوں پر زور دیا گیا کہ وہ مارگلہ روڈ استعمال کریں، جبکہ راول ڈیم چوک سے فیض آباد اور راولپنڈی جانے والے شہری کشمیر چوک، سری نگر ہائی وے، نائنتھ ایونیو یا ڈبل روڈ استعمال کریں۔

ایڈوائزری میں مزید کہا گیا کہ ’ ایکسپریس چوک کے ذریعے کرال سے راولپنڈی جانے والے شہری اولڈ ایئرپورٹ روڈ، راول ڈیم روڈ اور نائنتھ ایونیو ڈبل روڈ استعمال کریں، اوجڑی لوپ سے ایکسپریس ہائی وے ڈھوک کالا خان سروس روڈ استعمال کریں، زیرو پوائنٹ فیض آباد کے لیے بند ہے۔’

پولیس نے فیصل ایونیو، راولپنڈی مری روڈ اور سری نگر ہائی وے کے ذریعے کرال جانے والے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے نائنتھ نیو ڈبل روڈ، راول روڈ اور اولڈ ایئرپورٹ کرال چوک استعمال کریں۔

راول ڈیم چوک کے ذریعے فیض آباد سے مری سے اسلام آباد آنے والے شہریوں پر زور دیا گیا کہ وہ بائیں جانب کرال چوک کی طرف مڑیں، اور کرال چوک سے پرانے ہوائی اڈے، راول روڈ راولپنڈی، مری روڈ اور ڈبل روڈ تک سفر کریں۔

پولیس نے مزید کہا کہ ’ نئے ہوائی اڈے سے مری/باہرہ کہو جانے والے شہری پشاور صدر روڈ استعمال کر سکتے ہیں۔’

مزید کہا گیا کہ ’ کشمیر ہائی وے سے، راول روڈ سے پرانے ہوائی اڈے تک نائنتھ ایونیو ڈبل روڈ استعمال کریں، پھر لترار روڈ، پھر پارک روڈ، راول ٹیم کشمیر چوک سے مری/باہرہ کہو تک جائیں۔’

اسلام آباد سے جانے والے شہریوں پر زور دیا گیا کہ وہ فیصل ایونیو کے ذریعے راولپنڈی جانے کے لیے نائنتھ ایونیو ڈبل روڈ استعمال کریں، جبکہ مظفر گڑھ سے آنے والوں کو ایمبیسیڈر ہوٹل سیونتھ ایونیو یا جی-6 استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔

ایڈوائزری میں مزید کہا گیا کہ ’ جی پی او چوک سے سیونتھ ایونیو یا فضل حق روڈ جناح ایونیو استعمال کریں۔’
مزیدپڑھیں:غیر ملکی خاتون پریزینٹر نے حسن علی کو ‘جوکر’ قرار دیدیا، ویڈیو وائرل

متعلقہ مضامین

  • جنید اکبر کا احتجاج کے حوالے سے بیان سامنے آگیا
  • چیئرمین جنید اکبر خان کی زیر صدارت پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس، پاکستان ریلوے کے آڈٹ اعتراضات کے جائزہ لیا گیا
  •  قانون کی حکمرانی ہوتی تو ہمارے رہنما جیل میں نہ ہوتے :  عمرایوب
  • جماعت اسلامی کا ریڈزون کے بجائے اسلام آباد ایکسپریس وے پر مظاہرے کا اعلان
  • جماعت اسلامی کا ریڈزون کے بجائے اسلام آباد ایکسپریس وے پر مظاہرے کا اعلان
  • جماعت اسلامی کا غزہ مارچ، اسلام آباد میں ریڈ زون سیل  
  • جماعت اسلامی کا مارچ روکنے کیلئے انتظامیہ متحرک، اسلام آباد ریڈزون بھی سیل کردیا گیا
  • اسلام آباد میں ریڈزون کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا، حکومت کا جماعت اسلامی سے رابطہ
  • برداشت ختم ہوئی تو آپ کو مذمت کا موقع بھی نہیں ملے گا: جنید اکبر 
  • جماعت اسلامی کا متوقع غزہ مارچ، اسلام آباد میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، ریڈ زون سیل