Express News:
2025-04-22@14:22:30 GMT

آئینی اور ریگولر بینچوں کے ججز میں تصادم بڑھ گیا

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT

اسلام آباد:

26ویں آئینی ترمیم کے بعد آئینی اور ریگولر بنچوں کے ججوں کے درمیان تصادم بڑھ گیا ہے کیونکہ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کیخلاف عدالتی احکامات/ ریمارکس دینا شروع کر دیے ہیں جس کی حالیہ عدالتی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

مبصرین کے مطابق عوامی سطح پر ایک دوسرے کے طرز عمل پر سوال اٹھانے کا یہ رجحان انتظامیہ کو مزید اعتماد دے گا تاکہ عدلیہ کو بطور ادارہ مزید کمزور کیا جا سکے۔

اعلیٰ عدلیہ بطور ادارہ تب کمزور ہونا شروع ہوئی، جب چیف جسٹس قومی سیاست کی تشکیل کیلئے ہائی پروفائل مقدمات میں سازگار عدالتی احکامات لینے کیلئے ہم خیال بنچ تشکیل دے رہے تھے۔

ججوں میں تصادم تب مزید بڑھ گیاجب پی ٹی آئی حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی برطرفی کے حوالے سے صدارتی ریفرنس دائر کیا۔

ججوں کا بھی ایک طبقہ انھیں بے دخل کرنے میں دلچسپی رکھتا تھا تاہم وہ آخر میں کامیاب نہ ہو سکے۔ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں بھی عدالتی سیاست جاری رہی۔

سپریم کورٹ کے دو جج اعجاز الاحسن اور مظاہر علی اکبر نقوی کو گزشتہ سال مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا۔  یہاں تک کہ امین الدین خان کی سربراہی میں بڑے بنچ نے قرار دیاتھاسپریم جوڈیشل کونسل آٓئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ریٹائرڈ ججوں کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔

جسٹس امین الدین خان کو جے سی پی کے غیر عدالتی ارکان نے آئینی ترمیم کا سربراہ منتخب کیا۔اب 26 ویں آئینی ترمیم کا فائدہ اٹھانے والے ایک طرف اور ترمیم سے ناراض دوسری طرف ہیں۔

آئینی بنچ نے 26 ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ موخر کر دیا۔ اب جے سی پی میں مزید 8 ہم خیال ججوں کی تقرری میں حکومت کی کامیابی کا امکان ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج شاہد جمیل خان کا خیال ہے  سپریم کورٹ میں تین مقدمات کی کارروائی نے عدالتی انتشار کو بڑھا دیا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں بنچ نے ایڈیشنل رجسٹرار کو توہین عدالت کی کارروائی سے فارغ کر دیا  تاہم   یہ قرار دیتے ہوئے کہ 2 کمیٹیوں کے ارکان نے عدالتی حکم کو نظر انداز کیا،فل کورٹ کی تشکیل کا معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا۔لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جو خود تینوں مقدمات کی کارروائی کے گواہ تھے، کہتے ہیں متوقع آبزرویشنز یقینی طور پر تنازعہ کو مزید بڑھائیں گے جبکہ سپریم کوٹ کو مزید منقسم کرے گی۔

.

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سپریم کورٹ کے جسٹس ریٹائرڈسرمد جلال عثمانی انتقال کرگئے

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ کے جسٹس ریٹائرڈسرمد جلال عثمانی انتقال کرگئے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹری  اعلامیہ کے مطابق سرمد جلال عثمانی کینسر کے عارضے میں  مبتلا تھے اورطویل عرصے سے ہسپتال میں زیرعلاج تھے،سرمد جلال عثمانی کی نماز جنازہ کل بعدنماز عصر مسجد حمزہ ڈیفنس فیز 8میں ادا کی جائے گی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مزید آئینی ترمیم کی ضرورت نہ فوجی تنصیبات کو آگ لگانے پر ہارپہنائیں گے : اعظم تارڑ
  • کراچی: سٹی کورٹ میں وکلاء کی ہڑتال، سائلین پریشان
  • 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد مزید کسی ترمیم کی ضرورت نہیں: اعظم نذیر تارڑ
  • سپریم کورٹ کے جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی انتقال کرگئے
  • نظام کی بہتری کے لیے 26 ویں ترمیم کی گئی، ضرورت ہوئی تو مزید قانون سازی کریں گے، وزیر قانون
  • سابق جج سپریم کورٹ جسٹس سرمد جلال عثمانی انتقال کر گئے
  • جسٹس منصور علی شاہ نے قائم مقام چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھالیا
  • سپریم کورٹ کے جسٹس ریٹائرڈسرمد جلال عثمانی انتقال کرگئے
  • امریکا، سپریم کورٹ نے وینزویلا کے تارکین وطن کو بیدخل کرنے سے روک دیا
  • چیف جسٹس ایس سی او جوڈیشنل کانفرنس کیلیے آج چین جائیں گے