عوامی مسائل حل کرنے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، عبدالحمید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت) سابق امیر جماعت اسلامی ٹنڈوجام اور جنرل کونسلر عبدالحمید شیخ نے کہا ہے کہ عوامی مسائل کو حل کرنے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے اپنے وارڈ میں صفائی کا کام کرتے ہوئے لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا ہمارے چیئرمین دانش صابر قائم خانی کی کوشش ہے کہ پوری یونین کونسل کی عوام کے بنیادی مسائل ان کے دروازے پر حل کیے جائیں اور صفائی کا نظام بہت اچھا ہو۔ انہوں نے کہا ہر گلی اور محلہ کی صفائی کا خود جائزہ لیتے ہیں، صفائی کے کاموں کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا عوام نے جو ذمے داری ہمیں سونپی ہے، اللہ کے فضل سے ہم اس پر پورا اُتریں گے اور اپنی یونین کونسل کو ٹنڈوجام کی مثالی یونین کونسل بنائیں گے۔
.ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دو ریاستی حل ہم کبھی بھی اسرائیل کو قبول ہی نہیں کرتے، فخر عباس نقوی
ایم ڈبلیو ایم کے زیراہتمام منعقدہ کربلائے عصر فلسطین سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر کا کہنا تھا کہ آج ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں، اسرائیل نواز تنظیم کو آشکار کرنے کی ضرورت ہے، جب تک اس سرزمین پر قائداعظم کے معنوی فرزند موجود ہیں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنے دیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر فخر عباس نقوی نے کہا ہے کہ آج دنیا نے ایک بار پھر دیکھا اگر کوئی انسانیت کا علمبردار ہے تو وہ سید علی خامنہ ای ہے، آج ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں، اسرائیل نواز تنظیم کو آشکار کرنے کی ضرورت ہے، جب تک اس سرزمین پر قائداعظم کے معنوی فرزند موجود ہیں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنے دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے اسلام آباد میں کربلائے عصر فلسطین سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سید فخر عباس نقوی نے مزید کہا کہ حقیقی معنوں میں سید الشہداء کے حقیقی وارث شہدائے یمن، فلسطین، غزہ اور ایران ہیں، آج بھی ہمارا توکل صرف خدا پر ہونا چاہیے، ایک بار پھردشمن اپنا پراپیگنڈہ پھیلا رہا ہے، ہمارے ایوانوں کی شکل میں، ہمارے سینٹرز کی شکل میں اور بہت سارے افراد کی شکل میں اور میڈیا پرسن کی شکل میں، دو ریاستی حل ہم کبھی بھی اسرائیل کو قبول ہی نہیں کرتے، اب اس نظریے کے قائل ہیں جو قائداعظم محمد علی جناح نے نظریہ دیا تھا، ہم کسی صورت اسرائیل کو قبول نہیں کریں گے، جب تک ہماری جان میں جان ہم فلسطین کا راستہ اور مقاومت کا راستہ ترک نہیں کریں گے۔