بنگلہ دیش اورانڈیا،سیاسی تنا ؤاور کشیدگی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
(گزشتہ سے پیوستہ)
اسی دوران ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو تریپورہ کے کیلا شہر کے مکورولی علاقے کا ہے۔ اس ویڈیو میں مشتبہ بنگلہ دیشی سمگلروں کو انڈین بارڈر سیکورٹی فورس کے جوانوں کے ساتھ تصادم میں مصروف دیکھا جا سکتا ہے۔بنگلہ دیش کے 1971 ء میں قیام کے بعد سے اس کے انڈیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ انڈیا، بنگلہ دیش سرحد پر حالات کبھی خراب نہیں ہوئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان لوگوں کی آمد و رفت اور تجارت آسانی سے جاری رہی۔ لیکن اب بنگلہ دیش میں جو ہو رہا ہے اس سے واضح ہے کہ ان کے درمیان تنائو پیدا ہو گا۔ سرحدی دیہات کے لوگ اپنی حفاظت کے بارے میں ہمیشہ مستعد رہتے ہیں۔ یہاں کئی اہم علاقے ایسے ہیں جہاں خار دار تاریں نہیں ہیں۔ ایسی جگہوں پر شہری خود اپنے دفاع کے لئے پیش پیش رہتے ہیں۔ انہوں نے جس قدر ہو سکے حفاظتی انتظامات کرنے شروع کردئیے ہیں۔ وہ نگرانی کے کیمرے نصب کرنے اور رات کے وقت گشت جیسے کاموں میں مصروف ہیں۔
انڈیا ہمیشہ سے بنگلہ دیش سے لوگوں کی مبینہ دراندازی کو ایک بہت بڑے مسئلے کے طور پر پیش کرتی رہی ہے اور انڈیا کی مختلف ریاستوں میں ہونے انتخابات میں اس کی بازگشت سنی جا سکتی ہے۔اس سرحدی علاقے میں دراندازی کے معاملے پر سیاسی جماعتیں بھی ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہی ہیں اور حملے کر رہی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے فروری کے مہینے میں دہلی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بھی دراندازی کو بڑا مسئلہ بنا کر پیش کیا تھا۔ تاہم مغربی بنگال میں اس معاملے پر حکمران ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان اکثر تو تو میں میں ہوتی رہتی ہے۔ ریاستی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے عہدیداروں کے ساتھ اپنی سالانہ میٹنگ میں کہا کہ انہوں نے ان علاقوں کے ناموں کی نشاندہی کی ہے جہاں مبینہ طور پر دراندازی ہو رہی ہے۔
ریاستی سیکرٹریٹ میں مختلف محکموں کا جائزہ لینے کے دوران بنرجی نے کہا بارڈر سکیورٹی کی ذمہ داری ترنمول کانگریس یا ریاستی پولیس کے پاس نہیں ہے، یہ بارڈرسیکورٹی فورس کا کام ہے، وہ دراندازی اور جرائم پیشہ افراد کی مدد کر رہے ہیں، میں ان کے خلاف کارروائی کروں گی۔ اس سلسلے میں مرکزی حکومت کو خط لکھوں گی۔
ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کے تین سرحدی علاقوں کا نام بھی لیا جہاں دراندازی سب سے زیادہ ہے۔ممتا بنرجی کے بیان کے بعد بی ایس ایف کے جنوبی بنگال بارڈر ایریا کے انڈین فورس بی ایس ایف سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی کمشنر آف پولیس نیلوتپل کمار پانڈے نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات بارڈر سکیورٹی فورس کے جوانوں کے حوصلے پست کر رہی ہیں۔ بی ایس ایف ایک ذمہ دار فورس ہے اور اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھا رہی ہے۔ بنگلہ دیش سرحدی حفاظتی فورس کے افسر کا بیان یقینی طور پر الجھن کا باعث بنا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس وقت سرحدی علاقے میں صورتحال پہلے جیسی ہی ہے اور سرحد کے دونوں طرف امن قائم ہے۔ دریں اثنا ایک اور واقعہ پیش آیا جب مالدہ ضلع کے سکھدیو پور میں منگل کو خاردار تار لگانے کا کام جاری تھا۔ اس وقت بنگلہ دیش بارڈر سکیورٹی فورس کے جوانوں نے کام روکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد سرحدی علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ سکھدیو پور کے گائوں والے وہاں جمع ہو گئے۔ گاؤں والوں نے ــبھارت ماتا کی جئے،جئے شری رام،۔ وندے ماترم،جیسے نعرے لگائے۔
دوسری جانب بی جے پی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بیان کے خلاف جارحانہ انداز اپنا رہی ہے۔ اپوزیشن لیڈر سوبیندھو ادھیکاری نے وزیر اعلیٰ کو ایک خط لکھا ہے جس میں کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے اس میں ذکر کیا کہ سکیورٹی فورسز کے افسران اور سپاہی ملک کی خدمت کرتے ہیں اور بدترین حالات میں بھی ملکی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ سکیورٹی فورسز سرحد کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ فوجیوں کے بارے میں توہین آمیز بات کرنے پر ملک آپ کو معاف نہیں کرے گا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کس طرح مقامی حکام دراندازوں کو راشن کارڈ اور شناختی کارڈ جاری کرتے ہیں جو سرحد پار کرکے کسی گائوں میں پناہ لیتے ہیں اور پولیس افسران ان کی تصدیق کیسے کرتے ہیں۔ خط میں انہوں نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال حکومت خاردار تاریں لگانے میں انڈین بارڈر سکیورٹی فورس کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مغربی بنگال میں، ریاستی حکومت بنگلہ دیش کی سرحد کے ساتھ لگ بھگ 300کلومیٹر خاردار تاروں کے لئے زمین مختص کرنے میں بھی سستی دکھا رہی ہے۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں سرکاری نوکریوں کے لئے شروع ہونے والی طلبہ تحریک حکومت مخالف پرتشدد احتجاج میں بدلی تو 15 سال برسراقتدار رہنے والی سفاک اور جمہوریت کے لبادے میں ڈکٹیٹر سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو فرار ہو کر اپنے آقا مودی کے پاس پناہ لینا پڑی اور وہ اب تک کڑے پہرے میں زندگی کے دن گزار رہی ہیں۔ اس سارے قصے میں ظالم ڈائن حسینہ واجد کے سب سے زیادہ پسندیدہ مقرر کردہ بنگلہ دیش کی فوج کے آرمی چیف وقار الزمان کا مرکزی کردار رہا جنہوں نے ایک طرف حسینہ کو فرار ہونے کے لئے ہیلی کاپٹر فراہم کیا اور طلبہ کے مطالبے پر مجبور ہو کرنوبل انعام یافتہ محمد یونس کو ملک کی عبوری حکومت کا نگران مقرر کیا اور دوسری جانب سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء سمیت کئی سیاسی مخالفین کو بھی رہا کرنا پڑا۔
اس غیر معمولی اور اچانک تبدیلی پر جہاں مودی حکومت سنبھل نہ پائی وہاں حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد نے ایک عالمی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بنگلہ دیش میں آنے والی تبدیلی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے کئی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کا سیاسی مستقبل بھی پاکستان کی طرح ہو سکتا ہے اور (آنے والے دنوں میں)بنگلہ دیش میں اسلامی شدت پسند دوبارہ سے اپنی جگہ بنائیں گے، جنہیں ان کی (سابق)حکومت نے بڑی مشکل سے محدود کیا تھا اور اب بنگلہ دیش دوسرا پاکستان بننے جا رہا ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس بیان پر کوئی بھی ردعمل دینے سے انکار کیا ہے جبکہ متعدد سابق پاکستانی سفارت کاروں سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک معیوب موازنہ اور تجزیہ ہے۔ بنگلہ دیش کی صورتحال پر نظر رکھنے والے سیاسی مبصرین اور تجزیہ کار اس بارے میں مِلے جلے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ ڈھاکہ سے وکیل رضوانہ مسلم نے اسی عالمی میڈیا پر سجیب واجد کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ غصے یا بغض میں دیا گیا بیان ہے جس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
(جاری ہے)
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بارڈر سکیورٹی بنگلہ دیش میں سکیورٹی فورس ممتا بنرجی انہوں نے کرتے ہیں فورس کے رہی ہیں کہا کہ رہا ہے رہی ہے کے لئے
پڑھیں:
بلوچستان: ڈیوٹی سے غفلت برتنے پر لیویز فورس کے 15 اہلکار برطرف
کوئٹہ (اوصاف نیوز)بلوچستان لیویز فورس کے 15 اہلکاروں کو ڈیوٹی سے مسلسل غیر حاضری، فرائض میں غفلت، بد نظمی اور اعلیٰ حکام کے احکامات نہ ماننے پر ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ لیویز فورس کوئٹہ کے ڈائریکٹر جنرل عبدالغفار مگسی کے دستخط سے جاری ہونے والے ایک حکم نامے کے تحت کیا گیا۔برخاست کیے گئے اہلکار سی پیک ونگ اور ایس ایس ای پی یو ونگ سے تعلق رکھتے تھے اور بلوچستان کے مختلف اضلاع سبی، سوراب، خضدار، تربت اور پنجگور میں تعینات تھے۔
انہیں پاکستان ریلوے کی جانب سے شال سے جعفرآباد تک سیکیورٹی کی ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا تھا، تاہم وہ بغیر اطلاع یا اجازت کے اپنی ذمہ داریوں سے غیر حاضر رہے۔
محکمہ لیویز کے مطابق اہلکاروں کی غیر حاضری نے ادارے میں بد نظمی، انتظامی مسائل اور نافرمانی کو فروغ دیا، جس سے فورس کی مجموعی کارکردگی متاثر ہوئی۔
برطرف کیے گئے اہلکاروں میں خالق داد، ظہیر احمد، گل محمد ،یاسر احمد،ظہیر احمد، زاہد احمد، عابد حسین، عبدالحفیظ،صغیر احمد، صادق سفر، سعید احمد، جلال مراد،تنویر احمد، محمد حسین، ساجد علی شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سرمد جلال عثمانی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے