آرمی چیف‘ بیرسٹر گوہر ملاقات وزیراعظم کی اجازت سے ہوئی ہو گی: احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اڑان پاکستان پروگرام پر خصوصی بریفنگ میں کہا ہے کہ بھارت‘ چین‘ جاپان‘ بنگلہ دیش اور ملائیشیا نے ترقی دس سالہ پروگرام سے کی ہے۔ صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ کی حکومت نے بھی پی ٹی آئی کی طرح دس سالہ اقتدار کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہماری حکومت نے دس سالہ اقتدار میں رہنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔ پانی و خوراک کی کمی‘ سیلاب سے نمٹنے کیلئے طویل المدتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو چین سے تربیت دلوائیں گے۔ گریڈ 20 کے 30 افسران کو چین کی ترقی کا جائزہ لینے کیلئے خصوصی دورے پر بھیجا۔ ان افسران کی رپورٹ کی روشنی میں سی پیک فیز ٹو کا آغاز کریں گے۔ ملک میں اسمبلیوں کو مدت پوری کرنی چاہئے۔ صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ تسلیم کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت کو مدت پوری نہ کرنے دینا غلطی تھی؟۔ احسن اقبال نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نہ جاتی تو ملک دیوالیہ ہو جاتا۔ اگر بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈا پور آرمی چیف سے ملے ہیں تو یہ وزیراعظم کی اجازت سے ہوا ہو گا۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: احسن اقبال
پڑھیں:
ملک میں دہشت گردی کے نظریاتی مسائل کا حل فکر اقبال میں ہے، وفاقی وزیر
لاہور:وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ یہ جو ملک میں دہشت گردی ہے اس کے نظریاتی مسائل کا حل فکر اقبال میں ہے اور فکری انتشار کی بڑی وجہ بھی اقبال کی فکر سے دوری ہے۔
ایوان اقبال میں بین الاقوامی اقبال کانفرنس کے انعقاد سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ اقبال ہمیں خواب تو دکھاتے ہیں لیکن حقیقت میں بدلنے کی عمل کی تلقین بھی کرتے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ جو قومیں آزاد و خود مختار ہوتی ہیں وہ وقت ضائع نہیں کرتی بلکہ اپنی تقدیر و آزادی کے لیے لڑتی ہیں، اقبال ہمیں فکر جہد مسلسل کا سبق پڑھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے اڑان پاکستان کا ویژن اپنایا وہ اقبال کے افکار کی تعبیر ہو، ہم چاہتے ہیں نوجوان دوبارہ سائنسدان محقق اور ستاروں پر کمند ڈالیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں وہی قوم بننا ہے جو علم کی طلب گار ہو اور عمل میں بے مثال ہو، ہم پاکستان کو ان کے خوابوں کے مطابق پاکسان بنا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فکر اقبال کا احیا اسکول کالجز، یونیورسٹی اور قومی سطح پر ہونا چاہیے۔ اقبال کی فکر پر عمل کیا جائے تو قوم کو تفرقہ بازی سے باہر نکالا جا سکتا ہے، بطور قوم متحد ہو کر بڑے مقصد کے لیے برسر پیکار ہونا ہوگا۔