آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ایک بار پھر پاکستان آئے گی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT
آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی ٹیموں سے پہلے ورلڈ ٹور کے بعد رواں ماہ ٹرافی ایک بارپھر پاکستان آرہی ہے۔ ٹرافی اب فائنل تک پاکستان میں ہی رہے گی۔
ورلڈ ٹرافی ٹور کے پہلے مرحلےمیں آئی سی سی ٹرافی کو لاہور نہیں لا یا گیا۔ نومبر میں پاکستان کے ٹرافی ٹور میں اس کی اسلام آباد، مری، ایبٹ آباد، نتھیاگلی،ٹیکسلا اور کراچی میں نمائش کی گئی تھی۔اس بار ٹرافی کو لاہور اور پنجاب کے دوسرے مقامات پر لے جایا جائے گا۔
ٹرافی ٹور کے حوالے سے پی سی بی اور آئی سی سی حکام جلد معاملات کو فائنل کرلیں گے۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا پہلا میچ 19 فروری کو ہوگا، جبکہ فائنل نومارچ کو طے ہے۔
.ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فصلوں کے لحاظ سے یہ بہت ہی خراب سال ہے، اسد عمر
لاہور:سابق وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ جب حکومت آئی اور شہباز شریف وزیراعظم بنے اس کے بعد انھوں نے اگلے ڈیڑھ سال پاکستان کے ساتھ وہ کیا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا، پاکستان کی تاریخ کی بد ترین معاشی پرفارمنس اس عرصے کے اندر گزری۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام اسٹیٹ کرافٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا 24-23 کا سال صنعتی پیداوار کے لحاظ سے بدترین سال تھا، فصلوں کا یہ بہت ہی خراب سال ہے، معیشت میں ترقی کے آثار کچھ کچھ ، تھوڑا تھوڑا نظر آنے شروع ہوئے تھے آج سے تین سے پانچ ماہ پہلے، وہ بھی اس وقت منفی ہو گئے ہیں۔
سابق سیکریٹری خارجہ جوہر سلیم نے کہا جے سی پی اواے ہوا تھا جو جوائنٹ کمپری ہنیسو پلان آف ایکشن کا مخفف ہے ہوا تھا تو کافی عرصہ تک تو لگا کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے، لیکن اس کے بعد جب ٹرمپ آئے تو ٹرمپ نے آ کر کہ کہا کہ میں اس سے ودڈرا کرتا ہوں، اس وقت ایران کی پوزیشن بھی پہلے کی نسبت کچھ کمزور ہے، اتنے عرصے سے لگی پابندیوں نے اس کا بہت نقصان کیا ہے، وہ بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔
تجزیہ کار ڈاکٹر کامران بخاری نے کہا ایران کے پاس اب کوئی چوائس نہیں رہی ہے، اسلامی جمہوریہ ایران کی جو چھیالیس سالہ تاریخ ہے اتنا کمزور کبھی بھی نہیں تھا، غزہ کی جنگ کے بعد خطے میں ان کا اثر ورسوخ جاتا رہا، اوپر سے اس کے عوام بالکل نالاں ہے، فنانشلی بہت بری حالت ہے۔