آڈیو لیک کیس: علی امین گنڈاپور کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری برقرار
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2025 GMT
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور—فائل فوٹو
آڈیو لیک کیس میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار ہیں۔
عدالت طلبی کے باوجود وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور آج بھی عدالت پیش نہیں ہوئے۔ علی امین گنڈاپور کی عدم پیشی پر عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے ہیں۔
ڈسٹرکٹ سیشن عدالت اسلام آباد نے شریک ملزم اسد فاروق کے عدالت میں پیش ہونے پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے۔
سماعت کے دوران علی امین گنڈا پور اور ان کے وکیل پیش نہیں ہوئے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور کے خلاف آڈیو لیک کیس کی 25 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔
.ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
علی امین گنڈاپور نے اسحاق ڈار کے دورہ افغانستان پر ردعمل دے دیا
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے دورہ افغانستان پر ردعمل دے دیا۔
اسحاق ڈار کے افغانستان دورہ پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ افغانستان اکیلے جانا کسی کے حق میں نہیں۔ ان مذاکرات میں سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر خیبر پختونخوا کو چھوڑ دیا گیا۔ دہشت گردی سے متاثرہ خیبر پختونخوا صوبے کو ساتھ لے چلنا پڑے گا، اگر کے پی کے جرگے کو مان لیا جائے تو خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں گے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے مذاکرات والی پالیسی پر وفاق عمل پیرا ہوگیا، اسحاق ڈار سلیکٹیڈ اور فارم 47 حکومت کے نمائندہ ہیں، خیبر پختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ پی ٹی آئی کے پاس ہے، مذاکرات خوش آئند ہیں تاہم اکیلے جانا کسی کے حق میں نہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ مذاکرات میں سولو فلائٹ کی بجائے ہمیں ساتھ لے کر چلنا چاہیے تھا، ہم نےمذاکرات کے لیے ٹی آو آرز بھی بھیجے، کوئی جواب نہیں دیا گیا، قومی سطح پر جرگے کی تشکیل کا فارمولا تیار کیا اس پر عمل ہونا چاہیے تھا۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ فارم 47 حکومت نالائق ہونے کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی کے منافی کام کر رہی ہے، غیر مہذب طریقے سے افغان مہاجرین کو واپس بھیجنا اشتعال کا سبب بنا ہے، ہم نے لاکھوں افغان باشندوں کی سالوں تک مہمان نوازی کی ہے، ہمیں ان مہاجرین کو باعزت طریقے سے رخصت کرنا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ افغانستان جانے کے بعد ان کو سانپ سونگھ چکا ہے، مذاکرات اور معاہدوں کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں کیونکہ ان کے پاس کچھ نہیں، اگر ہمارے جرگے کو مان لیا جائے تو خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں گے۔